مردان میں گیس سلینڈر کا دھماکا، ایک ہی گھر کے چھ افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 7th, June 2025 GMT
سلنڈر بلاسٹ میں جاں بحق ہونے والوں میں 36 سالہ فواد، اہلیہ اور تین کمسن بچے شامل ہیں جبکہ فواد کے 25 سالہ بھائی شاہ فہد بھی حادثے میں جاں بحق ہوئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے آرم کالونی میں سلینڈ دھماکے کے نتیجے میں ایک ہی گھر کے چھ افراد جاں بحق ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق آرم کالونی کے گھر میں سلینڈ دھماکے کے نتیجے میں دو منزلہ عمارت ملبے کا ڈھیر بنی اور مکین اس کے تلے دب گئے۔ واقعے کے بعد ریسکیو 1122 کے رضاکار جائے وقوعہ پہنچے اور ملبے میں دبی خاتون، بچوں سمیت 4 افراد کو نکالنے میں کامیاب ہوئے۔ ریسکیو 1122 کے مطابق حادثے میں میاں، بیوی اور اُن کے چار بچے جاں بحق ہوئے جبکہ زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ سلنڈر بلاسٹ میں جاں بحق ہونے والوں میں 36 سالہ فواد، اہلیہ اور تین کمسن بچے شامل ہیں جبکہ فواد کے 25 سالہ بھائی شاہ فہد بھی حادثے میں جاں بحق ہوئے ہیں۔
حادثے میں جاں بحق ہونے والے 6 افراد کی اجتماعی نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں رقعت آمیز مناظر تھے اور ہر شخص اشکبار تھا۔ جنازے میں ڈپٹی کمشنر مردان عظمت اللہ وزیر، سٹی میئر حمایت اللہ مایار، ایم پی اے عبد السلام آفریدی اور عمائدین علاقہ نے شرکت کی۔ عید کی صبح پیش آنے والے افسوسناک واقعے نے سب کے دلوں کو دہلا دیا ہے جبکہ میتیں گھر پہنچنے پر علاقے کی فضا سوگوار ہوگئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔