حیدرآباد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر نے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اپنی اسٹیٹ کے خلاف بیانیے کو تبدیل کریں، واحد حل بات چیت ہے، بات چیت کے ذریعہ اپنی بات کریں۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر برائے اطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ حکومت کو کسی بھی تحریک سے کوئی خطرہ نہیں، مجھے نہیں لگتا کہ پی ٹی آئی کی کوئی تحریک کامیاب ہوگی۔ حیدرآباد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ پاک بھارت لڑائی میں فوجی اور سویلین شہدا کو یاد رکھیں، فلسطین اور کشمیر کے مسلمانوں کو یاد رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ عید کا دن نمازوں اور قربانی کے ساتھ اتحاد کا دن ہوتا ہے، میری زندگی میں یہ پہلی عید ہے جو فاتح قوم کےطور پر منارہے ہیں، بھارت کو پاکستان نے عبرتناک شکست سے دوچار کیا، یہ جنگ ہماری بہادر افواج، سیاسی قیادت اور عوام نے مل کر لڑی۔ ان کا کہنا ہے کہ عید کے روز  2022ء کے سیلاب متاثرین کو یاد رکھیں گے، سیلاب متاثرین کےلیے بلاول بھٹو کی ہدایت پر 21 لاکھ گھر بنارہے ہیں، مئی میں ہم 8 لاکھ گھر بنانے کا ریکارڈ توڑ چکے ہیں، سولر سسٹم بھی مفت تقسیم کیے جارہے ہیں۔ 

شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کا بجٹ 13 جون کو پیش ہوگا، کوشش ہے عوام کو ریلیف دیں، وفاقی حکومت بھی کوشش کرے گی کہ عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالے، پیپلز پارٹی نے ہمیشہ بجٹ میں صحت اور تعلیم کو خصوصی توجہ دی ہے، ایم کیو ایم کی شعلہ بیانی اس کی مجبوری ہے، ہم سمجھتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنما نے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اپنی اسٹیٹ کے خلاف بیانیے کو تبدیل کریں، واحد حل بات چیت ہے، بات چیت کے ذریعہ اپنی بات کریں۔ انہوں نے بتایا کہ علیم خان آئے تھے، وعدہ کیا تھا کہ حیدرآباد سکھر موٹروے بنانے جارہے ہیں، اس سڑک پر سندھ کی نہیں پورے ملک کی ٹرانسپورٹ چلے گی، اسی سال حیدرآباد کو ای وی بسیں ملیں گی، مفت پنک اسکوٹر بھی بہنوں اور بچیوں کو دینے جارہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پی ٹی آئی بات چیت نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہوگی؟
  • 20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن