بلوچستان میں عید قربان کے دسترخوان: ذائقوں سے بھرپور علاقائی پکوانوں کی کہانی
اشاعت کی تاریخ: 8th, June 2025 GMT
پاکستان کے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کو روایات کی امین سرزمین کہا جاتا ہے۔ یہاں بسنے والوں کی روایات، ثقافت، تہذیب و تمدن مختلف ہے مگر یہاں بسنے والوں کے دل یکجان ہیں۔ یہاں نہ صرف ثقافتی تنوع پایا جاتا ہے بلکہ خوراک کے ذائقے بھی اسی تنوع کی خوبصورت عکاسی کرتے ہیں۔ خاص طور پر عیدِ قربان کے موقع پر بلوچستان کے مختلف علاقوں میں گوشت سے بننے والے روایتی اور منفرد پکوان خصوصی اہمیت اختیار کر لیتے ہیں، جو نہ صرف مقامی آبادی بلکہ دیگر علاقوں سے آنے والے افراد کو بھی اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
بلوچستان میں مٹن (بکری یا دنبے کا گوشت) کو سب سے زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔ خصوصاً صوبے کے پشتون اکثریتی اضلاع جیسے قلعہ سیف اللہ، لورالائی، ژوب، پشین اور شیرانی میں نمکین روش عید کے دنوں کی ایک لازمی روایت ہے۔
یہ ایک سادہ مگر لذیذ شوربہ دار پکوان ہوتا ہے جس میں نمک اور گوشت کی قدرتی خوشبو کو برقرار رکھا جاتا ہے، اور یہی اس کی اصل پہچان ہے۔ ساتھ ہی ان علاقوں میں کابلی پلاؤ، مٹن کڑاہی، دنبے کی چکّی سے ایک مخصوص انداز میں تیار کیا گیا باربی کیو اور نمکین چانپ (رِب باربی کیو) بھی بڑی رغبت سے کھائے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے بلوچستان کے روایتی کھانے
پشتون علاقوں میں کھانے نہ صرف ذائقے دار ہوتے ہیں بلکہ خاندانی و قبائلی روایات کے تحت مشترکہ انداز میں کھانے کا رواج بھی بہت گہرا ہے۔ قربانی کے بعد گوشت کی تقسیم کے بعد یہ تمام پکوان اہل خانہ اور مہمانوں کے ساتھ شوق سے کھائے جاتے ہیں۔
دوسری جانب جب ذکر ہوتا ہے بلوچ آبادی والے اضلاع کا، تو یہاں کے کھانوں میں مٹی، آگ اور گوشت کی ہم آہنگی سے تیار کردہ پکوان نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ بلوچی سجی ان میں سرفہرست ہے۔ یہ ایک روایتی پکوان ہے جس میں دنبے یا بکرے کے گوشت کو نمک لگا کر سیخ پر لٹکایا جاتا ہے اور اسے تنور یا لکڑی کی آگ پر آہستہ آہستہ پکایا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ کھڈی کباب بھی بلوچ علاقوں کی ایک خاص ڈش ہے، جو زمین میں گڑھا کھود کر اس میں گوشت کو پکانے کے منفرد طریقے پر مبنی ہے۔ یہ پکوان صرف ذائقہ ہی نہیں بلکہ مہارت اور صبر کا بھی امتحان ہوتا ہے۔ ساتھ ہی مٹن پلاؤ اور باربی کیو کے مختلف انداز، جیسے کہ کوئلوں پر بھنے کباب یا روسٹ کیے گئے گوشت کے ٹکڑے بھی بلوچ روایات کا حصہ ہوتے ہیں۔
یہ بھی جانیے سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں عید الاضحیٰ پر کون سے خاص پکوان تیار کیے جاتے ہیں؟
بیف (گائے کا گوشت) بھی ان علاقوں میں مختلف انداز میں پکایا جاتا ہے۔ بلوچستان کے کئی بلوچ اضلاع میں بیف کے شوربے والے سالن تیار کیے جاتے ہیں جن میں مقامی مسالے شامل کیے جاتے ہیں۔ ایک خاص روایت کے مطابق شوربے میں روٹی بھگو کر کھانا بھی بہت پسند کیا جاتا ہے، جسے مقامی زبان میں ’چور‘ یا ’شوربے والی نان‘ بھی کہا جاتا ہے۔
یہ تمام پکوان نہ صرف ذائقے کی دنیا میں بلوچستان کو ممتاز کرتے ہیں بلکہ وہاں کے لوگوں کی مہمان نوازی، سخاوت اور ثقافتی وابستگی کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔ عیدِ قربان ان پکوانوں کی تیاری اور تقسیم کا نہایت اہم موقع ہوتا ہے، جہاں خوشی کا اظہار کھانوں کی خوشبو، ذائقے اور ساتھ کھانے کی روایات کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
یہ بھی جانیے بلوچستان کا مزیدار روایتی نمکین گوشت کیسے تیار ہوتا ہے؟
یوں بلوچستان کا ہر علاقہ اپنے مخصوص انداز میں عید قربان کے دسترخوان کو مزین کرتا ہے۔ کہیں خوشبودار پلاؤ کی بھاپ اٹھتی ہے، کہیں سجی کی لکڑی کی آگ میں جھلستی خوشبو اور کہیں کڑاہی سے اٹھنے والے مصالحوں کے بادل فضا کو معطر کرتے ہیں۔ یہ صرف کھانے نہیں، بلکہ بلوچستان کی تہذیب اور روایت کا ذائقہ ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلوچستان عید الاضحی گوشت کے پکوان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان عید الاضحی
پڑھیں:
صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش
سٹی 42:صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ نے بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش کی
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بلوچستان میں 17 بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کی ہلاکت پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ملک دشمن عناصر کو سختی سے کچلا جائے گا۔سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔پوری قوم کو اپنے جوانوں پر فخر کرتی ہے۔آخری دہشتگرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف کامیاب آپریشنز پر سکیورٹی فورسز کی ستائش کی ۔ وزیرداخلہ محسن نقوی نے 17 بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے پر سکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو سراہا ۔ محسن نقوی نے کہا سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائیاں کرکے بلوچستان میں بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔ 17 بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کو عبرتناک انجام تک پہنچانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ پوری قوم کو سکیورٹی فورسز کے بہادر سپوتوں پر مان ہے ۔ دہشتگردی کے خلاف قوم سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بلوچستان میں کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ۔ انہوں نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز پر سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور بہادری کو سراہا۔ وزیراعظم نے بھارتی سرپرستی میں سرگرم 17 فتنتہ الھندوستان کے دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا قوم اپنی بہادر افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں اور خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کی کامیابیاں پوری قوم کے عزم اور اتحاد کی عکاس ہیں، بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد عناصر کے ناپاک عزائم کو ہر قیمت پر ناکام بنایا جائے گا۔پاکستان سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔پاکستان کے امن، استحکام اور ترقی کے خلاف ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بلوچستان میں فتنۂ الہندوستان کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ۔ صدرِ مملکت نے مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائیوں میں 17 دہشت گردوں کی ہلاکت کو سراہا ۔ صدر مملکت نے کہا ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کے ناسور کا جڑ سے خاتمہ کیا جانا اولین ترجیح ہے۔فتنۂ ہندوستان اور اس کے سہولت کاروں کے مذموم عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ