سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے حج بیت اللہ کے لیے آئے ہوئے مسلم ممالک کے رہنماؤں کے اعزاز میں ایک پُروقار شاہی ظہرانہ دیا گیا، جس میں اسپیکر قومی اسمبلی پاکستان سردار ایاز صادق نے بھی شرکت کی۔

تقریب کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی کی سعودی ولی عہد سے خصوصی ملاقات ہوئی، جس میں دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات اور عالم اسلام کو درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: گورنر سندھ کامران ٹیسوری کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو دورہ پاکستان کی دعوت

اس موقع پر سعودی ولی عہد نے اسلامی دنیا کو درپیش چیلنجز کے حل کے لیے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔

اسپیکر سردار ایاز صادق نے سعودی ولی عہد اور سعودی قیادت کا پاکستان کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب نے ہر کڑے وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان سعودی قیادت کے واضح اور دوستانہ موقف کو دل کی گہرائیوں سے قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

اسپیکر نے اس یقین کا اظہار بھی کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دوطرفہ تعلقات آئندہ مزید مستحکم ہوں گے اور دونوں ممالک عالم اسلام میں امن، ترقی اور یکجہتی کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیے: وزیراعظم شہباز شریف کی آرمی چیف کے ہمراہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات، دورہ پاکستان کی دعوت

ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان کے عوام خادم حرمین الشریفین کے لیے دلی عقیدت اور احترام رکھتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سعودی ولی عہد کے لیے

پڑھیں:

امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے

امریکا نے جبری مشقت کی روک تھام میں ناکامی پر60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 12.5 فیصد تک ٹیرف عائد کردیئے ہیں۔ 24 جولائی سے نئے ٹیرف کا اطلاق ہو رہا ہے اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جن پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ نیا اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے نظریے کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کی اشیا پر لگائے جانے والے 10 سے 50 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس بار ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کو استعمال کرکے 60 سے زائد ممالک پر ٹیرف عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ممالک جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اس حوالے سے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ارجنٹینا، بنگلا دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ دیگر 38 ممالک کی درآمدی اشیا پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ کچھ امریکی تجارتی شراکت داروں جیسے آسٹریلیا اور برازیل نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئے ٹیرف غیرمنصفانہ ہیں اور وہ انہیں ختم کرانے کی کوشش کریں گے جبکہ ناروے کا کہنا تھا کہ بے بنیاد الزامات پر اس کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ نئے ٹیرف میں مختلف درآمدی اشیا جیسے خام تیل، قدرتی گیس، مخصوص غذائی اجناس اور اشیا سمیت کھاد کو شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح جو اشیا جیسے اسٹیل، گاڑیاں، ایلومنیم اور تانبا وغیرہ پہلے سے سیکشن 232 نیشنل سکیورٹی ٹیرف میں شامل ہیں، ان پر بھی اس کا نفاذ نہیں ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ وانگ ای کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال
  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن