شاہد آفریدی نے سوشل میڈیا پربھارت مخالف بیان کی تردید کردی
اشاعت کی تاریخ: 9th, June 2025 GMT
پاکستان کے سابق کرکٹ کپتان شاہد آفریدی نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے اپنے آپ سے منسوب ایک بیان کی تردید کی ہے، جس میں ان سے منسوب کیا گیا کہ بھارت ہر شعبے میں پاکستان سے 10 سال پیچھے ہے۔
شاہد آفریدی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر وضاحت کرتے ہوئے اپنے آپ سے منسوب اس بیان کو جعلی قرار دیا ہے جس میں انہوں نے بھارت کو پاکستان سے ہر شعبے میں ایک دہائی پیچھے شمار کرتے ہوئے بھارت کو پاکستان کا حریف کہنا پاکستان کی توہین کے مترادف قرار دیا تھا۔
Fake https://t.
— Shahid Afridi (@SAfridiOfficial) June 7, 2025
شاہد آفریدی کی جانب سے مختصر ترین اس تردید پر ایکس کے صارفین نے ملے جلے تبصرے کیے ہیں، پاک بھارت کشیدگی کے ماحول میں مایہ ناز سابق کرکٹر نے کئی مرتبہ اپنے بیانات میں بھارت کو نشانے پر رکھا تھا، یہی وجہ ہے ان سے منسوب مبینہ بھارت مخالف بیان کو بظاہر کسی سے چک کی نگاہ سے نہیں دیکھا، تاہم شاہد آفریدی نے خود ہی اس کی تردید کرتے ہوئے اسے ’فیک‘ قرار دیا ہے۔
یہ واقعہ اس وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتا ہے، جہاں مشہور شخصیات کو اکثر ایسے جعلی یا غلط منسوب بیانات کی تردید کرنا پڑتی ہے، خاص طور پر جب کرکٹ کے عالمی مقابلے جیسے آئی سی سی ٹورنامنٹس یا سیاسی کشیدگی کے مواقع ہوں۔
ایکس صارفین نے شاہد آفریدی کی جانب سے مبینہ بیان کی تردید پر ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا ہے، بعض صارفین نے جہاں انہیں وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے کا طعنہ دیا کہ انڈین فین متاثر نہ ہوجائیں تو وہیں ایک صارف نے دریافت کیا کہ کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ بھارتی ہر لحاط سے پاکستانیوں سے بہتر ہیں۔
Post Views: 5
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کی تردید
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔