جامعہ کراچی میں 36 انچ کی پانی کی پائپ لائن پھٹ گئی
اشاعت کی تاریخ: 9th, June 2025 GMT
84 انچ کی پائپ لائن میں ایک جگہ سوراخ ہوگیا ہے، جامعہ کراچی میں گزشتہ تین دن سے پانی ضائع ہو رہا ہے، اطلاع کے باجود واٹر بورڈ کا عملہ تاحال غائب ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جامعہ کراچی میں 36 انچ کی پانی کی پائپ لائن پھٹ گئی،، جبکہ 84 انچ کی پائپ لائن میں سوراخ ہوگیا۔ جامعہ کراچی حکام کے مطابق یونیورسٹی قبرستان جانے والا راستہ مکمل زیر آب آگیا۔ حکام کا مزید کہنا ہے کہ جامعہ کراچی میں واٹر بورڈ کی 36 انچ کی پائپ لائن جگہ جگہ سے ٹھوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ حکام جامعہ کراچی کے مطابق واٹر بورڈ کی 84 انچ کی پائپ لائن میں ایک جگہ سوراخ ہوگیا ہے، جامعہ کراچی میں گزشتہ تین دن سے پانی ضائع ہو رہا ہے، اطلاع کے باجود واٹر بورڈ کا عملہ تاحال غائب ہے۔ جامعہ کراچی کے حکام کا کہنا ہے کہ لائنوں کی فوری مرمت نہیں کی گئی تو جامعہ میں موجود تمام قبریں ڈوبنے کا خطرہ ہے۔ حکام کے مطابق چند ہفتے قبل واٹر بورڈ کی 84 انچ پائپ لائن پھٹنے سے کروڑوں روپے کے نقصان کا بھی تاحال ازالہ نہیں ہو سکا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انچ کی پائپ لائن جامعہ کراچی میں واٹر بورڈ
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔