کراچی، لانڈھی پراسیسنگ زون کی آگ سے متعلق حقائق ایکسپریس نیوز نے حاصل کر لیے
اشاعت کی تاریخ: 9th, June 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد کے علاقے لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب لگنے والی آگ سے متعلق حقائق ایکسپریس نیوز نے حاصل کر لیے ہیں۔
ایکسپریس نیوز کو موصولہ رپورٹ کے مطابق زون کی پٹرولنگ گاڑی نے رات 3 بجکر 37 منٹ پر دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا۔
سیکریٹری پراسیسنگ زون غلام یاسین سانگرو کے مطابق دھواں ہربل تیل اور کاسمیٹکس تیار کرنے والی معروف فیکٹری ہیمانی انٹرنیشنل سے اٹھ رہا تھا۔
واقعے کے فوری بعد زون کے اپنے فائر بریگیڈ یونٹ نے ابتدائی طور پر آگ بجھانے کی کوشش کی، تاہم فیکٹری میں موجود کاسمیٹکس، تیل، پیکجنگ مٹیریل اور گتوں کی موجودگی نے آگ کی شدت میں تیزی سے اضافہ کر دیا۔
مزید پڑھیں: کراچی، لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں فیکٹریوں میں آگ تاحال بجھ نہ سکی، ایک فیکٹری مکمل تباہ
آگ پر قابو پانے کے لیے نہ صرف کے ایم سی بلکہ کے پی ٹی، پاکستان نیوی، ریسکیو 1122، لانڈھی، کورنگی اور نئی کراچی کے صنعتی زونز کے فائر ٹینڈرز بھی موقع پر پہنچے اور مشترکہ طور پر ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا۔
سیکریٹری غلام یاسین سانگرو کے مطابق کمشنر کراچی نے فوری طور پر کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن، کے الیکٹرک اور دیگر متعلقہ اداروں سے کوآرڈینیشن قائم کی تاکہ ریسکیو کارروائیوں میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
فائل فوٹو۔جناح اسپتال کراچی کے واش روم میں بچے کی پیدائش کے معاملے پر تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرکو جمع کروا دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا متاثرہ خاتون رات ساڑھے 9 بجے گائنی وارڈ میں آئی، گائنی وارڈ میں کسی نے بھی خاتون کو طبی امداد نہیں دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق خاتون کا الٹرا ساؤنڈ نہیں کروایا گیا اور چہل قدمی کا مشورہ دیا گیا۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق کنسلٹنٹ اور آر ایم او ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے، مریضوں کے ساتھ آنے والے مرد گائنی وارڈ کے احاطےمیں موجود تھے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق میڈیکل آفسر کو محکمہ صحت بھیجنے اور ڈیوٹی پر موجود پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کی 3 ماہ مزید ٹریننگ کی تجویز ہے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں سیکیورٹی گارڈز کی ڈیوٹی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی کی جانب سے بنائی گئی رپورٹ سیکریٹری اور وزیر صحت کو دے دی گئی۔