یہ گروتھ بھی فارم 47 کی طرح کی دکھا رہے ہیں: شیخ وقاص
اشاعت کی تاریخ: 9th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے الزام عائد کیا ہے کہ موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیاں نہ صرف کسان دشمن ہیں بلکہ عوام کو بدترین معاشی حالات سے دوچار کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پچھلے تین سالوں میں تقریباً تین کروڑ افراد خط غربت سے نیچے چلے گئے، اور حکومت کی جانب سے دکھائی جانے والی معاشی گروتھ بھی “فارم 47” جیسی ہے—جعلی اور گمراہ کن۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ جن معاشی ماہرین کو نیدرلینڈز سے لایا گیا تھا وہ معیشت بہتر کرنے نہیں بلکہ چولہے بجھانے آئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف کے دور کی 6.
انہوں نے مزید کہا کہ عوام شدید معاشی بدحالی کا شکار ہوچکے ہیں، جبکہ زراعت میں 13.5 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔ ان کے مطابق، حکومت کی معاشی رپورٹنگ تضادات کا شکار ہے، جس کی کوئی منطق سمجھ نہیں آتی۔
پی ٹی آئی رہنما مبین عارف جٹ نے بھی حکومت پر کڑی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر خزانہ اقتصادی سروے میں مویشیوں کی گروتھ دکھا کر زراعت کے شعبے کو مثبت ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کی گروتھ منفی میں جا چکی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کنسٹرکشن کی گروتھ کیسے بڑھ رہی ہے جبکہ سریا، سیمنٹ اور بجری کی فروخت میں نمایاں کمی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اپنی رپورٹوں میں خود تسلیم کر رہی ہے کہ صنعت اور زراعت دونوں شعبوں میں گراوٹ آئی ہے، تو پھر ترقی کس چیز میں ہو رہی ہے؟
مبین جٹ نے مزید کہا کہ وزیر خزانہ نے بجلی چوری پر قابو پانے کا دعویٰ تو کیا، لیکن یہ نہیں بتایا کہ بجلی کی مجموعی کھپت کتنی ہے؟
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3 سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘
ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔
حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔
شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔
واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش پانی زیر آب لاہور