پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے ملک کی معاشی ترقی کے اعدادوشمار کو ’فارم 47‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو حکومت ملک کو نیدرلینڈز بنانے آئی تھی اس نے عوام کے چولہے ہی بجھا دیے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت نے اقتصادی سروے 2025-26 جاری کردیا، جی ڈی پی میں اضافہ ریکارڈ

اسلام آباد میں دیگر پارٹی رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ 3 سال میں 3 کروڑ لوگ خط غربت سے نیچے چلےگئے ہیں اور یہ گروتھ بھی فارم 47 کی طرح کی دکھا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس حکومت کی پالیسیاں کسان دشمن ہیں جو ملک سے دشمنی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے دور کی ساڑھے 6 فیصد گروتھ کو حقارت سے دیکھنے والوں کی تیسرے سال تک مجموعی گروتھ ڈیڑھ فیصد ہے۔

شیخ وقاص اکرم کا کہنا تھا کہ عوام معاشی طورپریتیم ہوگئے اور زراعت میں ساڑھے 13 فیصد گراوٹ ہے پھر یہ کس قسم کی گروتھ ہے۔

اس موقعے پر پی ٹی آئی رہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کا کہنا تھا کہ وزیرخزانہ ایک شریف آدمی ہیں اور بدمعاشوں میں پھنس گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: کئی ممالک میں مہنگائی جوں کی توں لیکن پاکستان میں کم ہوئی، مشیر وزیر خزانہ

انہوں نے کہا کہ یہ وہی بات ہوئی کہ پڑھا بہت اور امتحان کے رزلٹ میں نمبر نیچے سے پہلا آیا، گزشتہ سال ریونیو 12 ہزار 970  ارب روپے تھا، اس سال14 ہزار سے زائد تک لے آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت جو گروتھ ریٹ دکھائی ہے وہ ایک غبارہ ہے، 1.

7 فیصد گروتھ ریٹ بڑھا ہے جو سنہ 1992 سے بھی کم ہے۔

عمر ایوب نے کہا کہ  زراعت میں ساری فصلوں کی گروتھ منفی رہی ہے، گدھوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے، مویشیوں کے بڑھنے کی بات کی جارہی ہے، اب ایک ایک بھینس، بکرا، گائے تو گننے کوئی نہیں جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ مارچ 2022 میں جو 50 ہزار کمائےجاتے تھے اس کی اب ویلیو 20 ہزار 833 کے برابر ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی آبادی میں اس سال کتنا اضافہ ہوا؟

ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی حکومت میں گروتھ ریٹ بڑھ رہا تھا لیکن اب ملک میں غربت 44.7 فیصد تک پہنچ گئی ہے،11.4 کروڑ آبادی سطح غربت کے نیچے چلی گئی ہے اور اس سال ریونیو شارٹ فال ایک ہزار ارب سے زائد ہوگا۔

پی ٹی آئی رہنما مبین عارف جٹ نے کہا کہ یہ اپنی کتابوں میں خود بتارہے ہیں کہ صنعت اور زراعت سب کی گروتھ منفی گئی لہٰذا ہمیں بتایا جائے کہ مثبت کیا ہے؟

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اکنامک سروے اکنامک سروے پر تحریک انصاف کی تنقید اکنامک گروتھ فارم 47

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اکنامک سروے اکنامک گروتھ فارم 47 کا کہنا تھا کہ پی ٹی ا ئی نے کہا کہ انہوں نے فارم 47

پڑھیں:

پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی

عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ  -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔

یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔

معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیا

ایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔

غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشن

ماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔

اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔

عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکم

اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔

ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔

معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفت

ریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔

مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔

واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔

عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔

پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔

 ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ