جماعت اسلامی ضلع عمرکوٹ کے امیر خلیل احمد کھوکھرسپرد خاک
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی ضلع عمرکوٹ کے امیر خلیل احمد کھوکھر انتقال کرگئے، وہ یکم جون کو حیدرآباد غزہ مارچ میں شرکت کے بعد واپسی پر سامارو میں کار ایکسیڈنٹ میں بیٹے ودیگر ساتھیوں سمیت شدید زخمی ہوئے تھے۔ جنہیں حیدرآباد میں آئی سی یو میں داخل کیا گیا تھا تاہم وہ عید کے روز اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ حادثے میں قیم ضلع قربان گشکوری، ان کے بیٹے حسین فاروق بھی زخمی ہوگئے تھے ان کو طبی امداد کے بعد گھر شفٹ کیا گیا تھا۔ محمد عظیم بلوچ اور عبدالحفیظ بجارانی کے بعد خلیل کھوکھر کار حادثے میں شہید ہونے والے جماعت اسلامی سندھ کے تیسرے رہنما ہیں۔ مرحوم کی نماز جنازہ آبائی شہر کنری میں صوبائی نائب امیر محمد افضال کی اقتدا میں ادا کی گئی جس میں صوبائی رہنما مولانا عبدالقدوس احمدانی، سہیل احمد شارق، الطاف احمد ملاح،شہر کی سیاسی سماجی شخصیات، جماعت اسلامی کے ذمے داران و کارکنان کے علاہ قریبی رشتے داروں نے شرکت کی۔ مرحوم دور طالبعلمی سے جمعیت اور بعد میں جماعت اسلامی کی مختلف ذمے داریوں پر فائز رہے۔ پورا خاندان بھائی بیٹے بھتیجے تحریک اسلامی سے وابستہ اور اقامت دین کی جدوجہد میں مصروف عمل ہیں۔ خلیل کھوکھر کی عمر 56 سال اور بیوہ، 4 بیٹے و 4 بیٹیوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن، سندھ کے امیر کاشف سعید شیخ، اسداللہ بھٹو و دیگر ذمے داران نے خلیل احمد کھوکھر کی وفات پر دلی دکھ و افسوس کا اظہار کیا ہے۔ صوبائی امیر کاشف سعید شیخ نے کہا کہ خلیل کھوکھر جماعت اسلامی کا قیمتی سرمایہ تھے،مرحوم کی دعوتی و تنظیمی خدمات کو یاد رکھا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔