data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نیویارک: عالمی ادارہ صحت (WHO) اور یو این ایڈز (UNAIDS) نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ٹی بی (تپ دق) اور ایچ آئی وی (HIV) جیسے مہلک امراض کی ادویات کی مقامی سطح پر تیاری کو یقینی بنائے تاکہ بھارت پر انحصار کم کیا جا سکے، عالمی اداروں نے پاکستان کی دوا ساز کمپنیوں کو WHO سے منظور شدہ ادویات بنانے کی ترغیب دی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کےمطابق ڈبلیو ایچ او اور یو این ایڈز کےترجمان نے کہاکہ  پاکستان میں اس وقت تقریباً ساڑھے 3 لاکھ افراد ایچ آئی وی سے متاثر ہیں جبکہ ہر سال 6 لاکھ سے زائد نئے ٹی بی مریض سامنے آتے ہیں، افسوسناک امر یہ ہے کہ ان میں سے صرف 5 ہزار مریض ہی دوا کا باقاعدہ استعمال کرتے ہیں جو صحت عامہ کے لیے ایک خطرناک صورتحال ہے۔

عالمی اداروں نے مزید کہاکہ پاکستان میں ایچ آئی وی اور ٹی بی کی مقامی دوا سازی نہ ہونے کے برابر ہے اور موجودہ صورتحال میں پاکستان کو ان بیماریوں کی ادویات خود تیار کرنا ہوں گی، ان اداروں کے مطابق پاکستان میں رجسٹرڈ ہزاروں دواؤں میں سے صرف 4 ہی ڈبلیو ایچ او سے منظور شدہ ہیں، جو بین الاقوامی معیار کے لحاظ سے ایک تشویشناک حقیقت ہے۔

وفاقی حکام نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستانی دوا ساز کمپنیاں عالمی معیار کی منظوری حاصل کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتیں، تاہم اب ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (DRAP) جلد ہی ایچ آئی وی، ٹی بی اور ملیریا کی ادویات بنانے کے لیے دوا ساز کمپنیوں سے درخواستیں طلب کرنے جا رہی ہے۔

وفاقی حکام کے مطابق ڈبلیو ایچ او، ڈریپ کو عالمی سطح کی ریگولیٹری اتھارٹی بنانے میں تعاون فراہم کرے گا تاکہ پاکستان کی ادویات بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی اپنی جگہ بنا سکیں۔

اس کے علاوہ حکومت نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت دی ہے کہ ایچ آئی وی، ٹی بی اور دیگر مہلک بیماریوں کی ادویات کو ضروری دواؤں کی فہرست میں شامل کیا جائے تاکہ ان کی بروقت دستیابی اور خریداری کو ممکن بنایا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایچ آئی کی ادویات بی اور

پڑھیں:

بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم

 احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔

پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔ 

احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔ 

انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔ 

احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ 

انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم