وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 26-2025 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت قومی سطح پر مختلف وزارتوں، محکموں، ڈویژنوں اور خصوصی علاقوں کے لیے کھربوں روپے کے ترقیاتی بجٹ مختص کیا ہے، جس میں توانائی، انفراسٹرکچر، تعلیم، پانی، صحت اور ٹیکنالوجی کے منصوبے شامل ہیں۔

ترقیاتی بجٹ میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے لیے 302 ارب روپے، وزارتِ آبی وسائل کے لیے 147 ارب روپے اور وزارتِ توانائی کے لیے 104 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ دیامیر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کے لیے بالترتیب 35 ارب اور 35.

7 ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کو 20 ارب روپے دیے جائیں گے۔

شہری سہولتوں کے ضمن میں کراچی کے کے-فور منصوبے کے لیے 9.4 ارب روپے، بلک واٹر سپلائی منصوبے کے لیے 8.2 ارب روپے اور کراچی انڈسٹریل ایریا کی سڑکوں کے لیے 2.5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ سندھ کے سیلاب متاثرہ علاقوں کے لیے 20 ارب روپے اور سندھ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 47.4 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

مزید پڑھیں:دفاعی بجٹ اور تنخواہوں میں کتنا اضافہ تجویز کیا گیا؟ بجٹ دستاویز منظر عام پر آگئی

بلوچستان کے لیے وفاقی حکومت نے 93 ارب روپے کی فراہمی تجویز کی ہے، جس میں 85 ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔ این-25 کراچی-کوئٹہ-چمن ہائی وے کے مختلف سیکشنز پر 120 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ حیدرآباد-سکھر موٹروے کے لیے 30 ارب روپے جبکہ ڈی جی خان-این-55 منصوبے کے لیے 11.4 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

آزاد جموں و کشمیر کے لیے 45 ارب روپے، خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کے لیے 70.4 ارب روپے اور گلگت بلتستان کے لیے 37 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ تجویز کیا گیا ہے۔

تعلیم کے شعبے میں 19.2 ارب روپے، ہائیر ایجوکیشن کے لیے 45 ارب روپے، وزیراعظم یوتھ اسکل پروگرام کے لیے 4.3 ارب روپے اور آزاد کشمیر و گلگت بلتستان میں دانش اسکولوں کے لیے 9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ہائیر ایجوکیشن کے 140 منصوبوں کی فنڈنگ بھی کی جائے گی۔

وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے لیے 4.7 ارب روپے، اسپارکو کے لیے 4 ارب روپے جبکہ وزارت آئی ٹی کے لیے 13.5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ کراچی اور اسلام آباد میں آئی ٹی پارکس کے لیے بالترتیب 4 اور 5 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔

وزارت داخلہ کے 16 منصوبوں کے لیے 11 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جن میں سیف سٹی اسلام آباد کی توسیع، نادرا کا ڈیجیٹل اکنامی پراجیکٹ، ماڈل جیل ایچ-16، اور جی-10 کورٹ فسیلیٹیشن سینٹر جیسے منصوبے شامل ہیں۔

مزید پڑھیں:ترقیاتی بجٹ 26-2025: پلاننگ کمیشن کے 4 ہزار 223 ارب روپے سے زائد کے قومی ترقیاتی منصوبے کیا ہیں؟

صحت کے منصوبوں کے لیے 15.3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ کراچی کے جناح میڈیکل کمپلیکس میں قائداعظم ہیلتھ ٹاور کے لیے 5 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔

ریلوے کے لیے بھی 24 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے، جس میں تھرکول ریلوے لائن کے لیے 9.3 ارب روپے، اور بوگیاں و مسافر کوچز کی خریداری کے لیے 7 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

وزارت قانون، میری ٹائم، منصوبہ بندی اور دفاع ڈویژن کے لیے بھی بالترتیب 1.7 ارب، 3.3 ارب، 12.42 ارب اور 11.5 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔

آئندہ مالی سال میں وفاقی حکومت پی ایس ڈی پی کے تحت مجموعی طور پر وسیع تر ترقیاتی فریم ورک کو آگے بڑھانے، پسماندہ علاقوں کو ترقی دینے اور معاشی استحکام کے ہدف کو حاصل کرنے کی حکمتِ عملی پر گامزن ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایچ 16 جیل بجٹ 26-2025 ترقیاتی بجٹ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایچ 16 جیل ترقیاتی بجٹ ارب روپے مختص کیے گئے ہیں منصوبوں کے لیے ارب روپے اور ترقیاتی بجٹ کے لیے 4

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا