نیا بجٹ؛ بینک سے کیش نکلوانے پر کتنا ٹیکس ، نان فائلرز پر کون سی پابندیاں لگیں گی؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
اسلام آباد:
نئے وفاقی بجٹ میں بینک سے کیش نکلوانے پر کتنا ٹیکس کٹے گا اور نان فائلرز پر مزید کون کون سی پابندیاں لگیں گی، اس حوالے سے تفصیلات سامنے آ گئیں۔
وفاقی حکومت آج مالی سال 2025-26 کے لیے 17 ہزار 600 ارب روپے کا بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کرے گی۔ بجٹ سے قبل وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس سہ پہر 4 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوگا، جس میں فنانس بل اور تنخواہوں و پنشن میں اضافے سمیت بجٹ تجاویز کی منظوری دی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق وفاق کی آمدن 19 ہزار 300 ارب روپے تک رہنے کا تخمینہ ہے جبکہ ایف بی آر کا ٹیکس ہدف 14 ہزار 130 ارب روپے مقرر کیا جا رہا ہے، جس میں سے 57 فیصد حصے کے مطابق تقریباً 8300 ارب روپے صوبوں کو این ایف سی ایوارڈ کی مد میں منتقل ہوں گے۔
آئندہ مالی سال میں بجٹ خسارہ ساڑھے 6 ہزار ارب روپے تک رہنے کا امکان ہے جب کہ قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 8500 ارب روپے رکھے جا رہے ہیں۔ وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے 1000 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔
آئندہ مالی سال کے معاشی اہداف:
کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2.1 ارب ڈالر (0.5 فیصد جی ڈی پی) برآمدات کا ہدف 35.3 ارب ڈالر درآمدات کا ہدف 65.2 ارب ڈالر اشیا و خدمات کی مجموعی برآمدات کا ہدف 44.9 ارب ڈالر اشیا و خدمات کی مجموعی درآمدات کا ہدف 79.2 ارب ڈالر ترسیلات زر کا ہدف 39.4 ارب ڈالر خدمات کی برآمدات 9.6 ارب ڈالر خدمات کی درآمدات 14 ارب ڈالر
بجٹ میں اہم اعلانات اور منصوبے:
1000 انڈسٹریل اسٹیچنگ یونٹس کے لیے 25 کروڑ روپے لیپ ٹاپ اسکیم اور پاکستان بنگلا دیش فرینڈشپ اسکالرشپ پروگرام 15352 دیہات میں بجلی کے نظام کی بہتری 2800 میگاواٹ بجلی کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ، جن میں 2633 میگاواٹ سولر نیٹ میٹرنگ ایم ایل ون اور کراچی سرکلر ریلوے منصوبوں پر پیش رفت ارشد ندیم/شہباز شریف ہائی پرفارمنس اسپورٹس اکیڈمی کا قیام آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، انضمام شدہ اضلاع کے لیے خصوصی ترقیاتی پروگرامٹیکس اصلاحات اور نئی تجاویز:
نان فائلرز پر سخت پابندیاں: بیرون ملک سفر، جائیداد اور گاڑیوں کی خریداری پر پابندی بینک سے 50 ہزار روپے نکالنے پر ٹیکس 0.6 سے بڑھا کر 1.2 فیصد شیئرز، میوچل فنڈز، بڑی مالی ٹرانزیکشنز پر بھی پابندیاں پٹرولیم لیوی 78 سے بڑھا کر مرحلہ وار 100 روپے فی لیٹر کرنے کی تجویز کاربن لیوی 2.5 فیصد عائد کرنے کی تجویز سبسڈیز کے لیے 1186 ارب روپے مختص 3500 سے زائد امپورٹڈ اشیا پر اضافی ڈیوٹیز میں کمی سپر ٹیکس میں بتدریج کمی: 20 کروڑ منافع پر سپر ٹیکس 1 فیصد سے کم ہو کر 0.5 فیصد 25 کروڑ پر 1.5 فیصد 30 کروڑ پر 4 فیصد برقرار پوائنٹ آف سیل ٹیکس چوری پر جرمانے میں 10 گنا اضافہ (5 لاکھ سے بڑھا کر 50 لاکھ) ٹیکس سسٹم سے نان فائلرز کی کیٹیگری ختم کرنے پر کام
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نان فائلرز ارب روپے ارب ڈالر خدمات کی کے لیے کا ہدف
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔