190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواستیں کل سماعت کیلئے مقرر
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی—فائل فوٹو
اسلام آباد ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی کی درخواستیں کل سماعت کےلیے مقرر ہوگئیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے کل کی کاز لسٹ جاری کردی جس کے مطابق قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف سماعت کریں گے۔
قومی احتساب بیورو (نیب) کی استدعا پر عدالت نے کل تک اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر تعینات کرنے کی مہلت دی تھی، اس سے قبل 5 جون کی سماعت نیب کی استدعا پر بغیر کارروائی ملتوی ہوگئی تھی۔
راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں آج بانیٔ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان سے پارٹی رہنماؤں کی ملاقات کا دن ہے۔
واضح رہے کہ 15 مئی کی سماعت میں نیب کو جواب جمع کروانے کےلیے نوٹس جاری ہوا تھا۔
بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطل کر کے ضمانت پر رہائی کی استدعا کی ہے۔
علم میں رہے کہ مذکورہ کیس میں 17 جنوری کو بانی پی ٹی آئی کو 14 سال اور بشریٰ بی بی کو 7 سال کی سزا سنائی گئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی اور بشری
پڑھیں:
سیمنٹ پیداوار رائلٹی کیس، پنجاب حکومت کے فیصلے پر وفاقی آئینی عدالت کا سخت اظہارِ تشویش
وفاقی آئینی عدالت میں سیمنٹ پیداوار رائلٹی کیس کی سماعت کے دوران پنجاب حکومت کی جانب سے رائلٹی کے نفاذ کے طریقۂ کار پر عدالت نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کیس کی سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جس میں مختلف قانونی نکات اور رائلٹی کے دائرہ کار پر تفصیلی ریمارکس دیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں:سرکاری ملازمین کی سینیارٹی سے متعلق وفاقی آئینی عدالت نے بڑا فیصلہ سنا دیا
سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ رائلٹی کا نفاذ معدنیات پر ہونا چاہیے نہ کہ سیمنٹ کی تیار شدہ بوری پر، کیونکہ فینشڈ پروڈکٹ پر رائلٹی عائد کرنے سے اس کا بوجھ بالآخر عوام پر منتقل ہوگا۔ جسٹس روزی خان نے کہا کہ فیکٹری مالکان کا نقصان نہیں ہوتا بلکہ رائلٹی کا اثر عام صارف تک پہنچتا ہے، جس سے سیمنٹ کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ حکومت فینش پروڈکٹ پر رائلٹی کیسے وصول کر سکتی ہے اور کیا اس کے نتیجے میں سیمنٹ کی بوری کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو اپنے لاء افسران کو اس معاملے پر واضح ہدایات دینی چاہئیں کہ اس نوعیت کا نفاذ قانونی طور پر مناسب نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:آن لائن بینک فراڈ کیس میں وفاقی آئینی عدالت کا شہری کے حق میں فیصلہ
عدالت میں وکیل احسن بھون نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت صرف معدنیات پر رائلٹی وصول کر سکتی ہے، جبکہ فینشڈ پروڈکٹ پر رائلٹی دراصل ایک بالواسطہ ٹیکس کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیمنٹ کی بوری پر رائلٹی کا نفاذ دراصل ڈبل ایکسائز ٹیکس کی وصولی کے برابر ہے۔
دورانِ سماعت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے حکومت سے مزید ہدایات لینے کے لیے مہلت دینے کی استدعا کی، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے مزید وقت فراہم کر دیا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب حکومت رائلٹی کیس سیمنٹ کیس وفاقی آئینی عدالت