معروف امریکی گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ اور این ایف ایل کھلاڑی ٹریوس کیلسی کی خفیہ شادی کی افواہیں ایک مرتبہ پھر گردش کرنے لگیں۔ 

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ٹیلر اور ٹریوس کی مبینہ خفیہ شادی کی افواہوں کا آغاز 9 جون کو ایک ویڈنگ پلانر کی انسٹاگرام اسٹوری سے ہوا، جس میں ایک ٹیبل کارڈ پر "Taylor Travis Kelce" لکھا دکھائی دیا۔

انسٹاگرام اسٹوری پر یہ ویڈیو ٹریوس کے کزن ٹینر کورم اور ان کی دلہن سمانتھا پیک کی شادی کی تقریب کی تھی۔ اس تقریب میں سوئفٹ اور کیلسی نے شرکت بھی کی تھی۔

سوشل میڈیا پر یہ کلپ وائرل ہوتے ہی قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں کہ شاید جوڑے نے خاموشی سے شادی کر لی ہے۔ کچھ صارفین نے یہ تک کہا کہ سوئفٹ نے اپنا نام بدل کر "Taylor Kelce" رکھ لیا ہے۔

تاہم ٖغیر ملکی میڈیا کے مطابق جوڑے کے قریبی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ وہ ابھی تک ان کی شادی نہیں ہوئی ہے اور ٹیبل کارڈ صرف ایک خلوص تھا جس میں ان کا نام جوڑا گیا نہ کہ شادی کی تصدیق۔

یاد رہے کہ ٹیلر اور ٹریوش کی محبت کا آغاز 2023 میں ہوا تھا، جب ٹریوس نے ایک پوڈکاسٹ میں بتایا کہ وہ ٹیلر کو دوستی کا بریسلیٹ دینا چاہتے ہیں۔ بعد ازاں دونوں کے درمیان تعلقات کا آغاز ہوا اور تب سے وہ ہالی ووڈ کی ایک مشہور جوڑی بن گئے جس کی شادی کی خبر پر سب کی نظریں جمی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: شادی کی

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران دم توڑ گئیں
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی