سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر سال کے آخر تک 14 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے : وزیر خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر سال کے آخر تک 14 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے : وزیر خزانہ WhatsAppFacebookTwitter 0 10 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس)وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ معزز ایوان کے سامنے بجٹ پیش کرنا میرے لیئے اعزاز کی بات ہے یہ مخلوط حکومت کا دوسرا بجٹ ہے ، اتحادی جماعتوں کی قیادت نوازشریف ، بلاول بھٹو ، خالد مقبول ، چوہدری شجاعت ، عبدالعلیم ، خالد مگسی کا رہنمائی کیلئے شکریہ ادا کرتاہوں ۔
یہ بجٹ ایک تاریخی موقع پر پیش کیا جارہاہے ، جب قوم نے غیر معمولی ہمت اور اتحاد کا مظاہرہ کیا ، بھارتی جارحیت کے مقابل ہماری سیاسی قیادت ، افواج پاکستان اور پاکستان کے غیور عوام نے جس دانشمندی اور بہادری کا ثبوت دیا وہ سنہرے الفاظ میں لکھا جائے گا۔
میں پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کو مبارکباد پیش کرتاہوں ، ہماری افواج نے پیشہ وارنہ مہارت سے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا ، اس عظیم کامیابی نے پیغام دیا کہ پاکستانی قوم ہر آزمائش میں متحد ہے ۔اب ہماری توجہ معاشی استحکام اور ترقی کے حصول کی جانب سے مرکوز ہے ۔
ہماری ترجیح ایسی معیشت کی تشکیل ہے جو ہر طبقے کو ترقی کے ثمرات دے ۔ یہی ویژن ہمین ایسے پاکستان کی طرف بڑھاتاہے جہاں ترقی ہر فرد کی دہلیز تک پہنچے ۔ہم نے گزشتہ سال معیشت کی بہتری کیلئے کئی اہم اقدامات کیئے جن کے نتیجے میں مالی نظم و ضبط میں بہتری آئی اور ہمیں کئی کامیابیاں حاصل ہوئیں۔
جی ڈی پی کے د2.
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرنئے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے بڑا ریلیف، ٹیکس سلیبز میں کمی کی تجویز نئے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے بڑا ریلیف، ٹیکس سلیبز میں کمی کی تجویز قومی اسمبلی کا اجلاس شروع، وزیر خزانہ بجٹ 26-2025 پیش کررہے ہیں وفاقی بجٹ، پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کیلئے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز وفاقی بجٹ میں حکومت کا تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف دینے کا فیصلہ وفاقی بجٹ میں16 منصوبے سندھ کے بجائے وزارت ہا ئوسنگ کو دے دیے گئے وفاقی بجٹ : کراچی واٹر سپلائی منصوبے کیلئے 8 ارب 20 کروڑ مختص کرنے کی تجویزCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ارب ڈالر تک پہنچ وفاقی بجٹ کی تجویز سال کے ا
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔