برطانیہ نے غزہ کی پٹی کے بارے "وحشیانہ" ریمارکس پر 2 صہیونی وزراء پر پابندیاں عائد کرنیکا اعلان کیا ہے اسلام ٹائمز۔ ایک ایسے وقت میں کہ جب غزہ کی پٹی میں سفاک اسرائیلی رژیم کے سنگین جنگی جرائم کا سلسلہ سرعام جاری ہے، برطانیہ نے "وحشیانہ ریمارکس" پر سفاک اسرائیلی رژیم کے 2 انتہاء پسند وزراء پر "پابندیاں" عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس حوالے سے جاری ہونے والے بیان میں لندن کا کہنا تھا کہ برطانیہ نے کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور کئی ایک دوسرے ممالک کے ہمراہ، عراقی کرد نژاد اسرائیلی وزیر برائے ہوم لینڈ سکیورٹی اتمار بن گویر (Itamar Ben-Gvir) اور یوکرینی نژاد اسرائیلی وزیر خزانہ بیزالل اسموٹریچ (Bezalel Smotrich) کے اثاثے منجمد کرنے سمیت ملک میں داخلے پر بھی پابندی عائد کی ہے۔ ان پابندیوں کی وجہ؛ غزہ کے حوالے سے ان دو صہیونی وزراء کے "گھناؤنے و وحشیانہ" بیانات بتائے گئے ہیں جبکہ اس کے برعکس، اسرائیلی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ بزالل اسموٹریچ اور بن گویر کے خلاف برطانوی پابندیوں سے متعلق فیصلہ "ہم خود کریں گے!"

اس بارے اپنے ایک بیان میں بیزالل اسموٹریچ کا کہنا تھا کہ برطانیہ نے ہمیں اپنے "وطن" میں (غیرقانونی) بستیاں تعمیر کرنے سے روکنے کی کوشش کی لیکن ہم برطانیہ کو دوبارہ ایسا کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے! انتہاء پسند صیہونی وزیر نے کہا کہ برطانوی پابندیاں اس لئے لگائی گئیں کہ میں نے فلسطینی ریاست کے قیام کو ناکام بنایا تھا! ادھر انتہاء پسند اسرائیلی وزیر خزانہ نے ایک نئی صیہونی بستی کا افتتاح بھی عین اسی وقت کیا ہے کہ جب اس کے خلاف برطانوی پابندیاں عائد کی جا رہی تھیں۔

دوسری جانب بن گویر نے بیت المقدس میں واقع قبلۂ اوّل مسلمین مسجد الاقصی کو تباہ کر ڈالنے اور اس کی جگہ یہودی عبادتگاہ کی تعمیر اور غزہ کی پٹی سے تمام فلسطینیوں کو زبردستی بے دخل کر دینے کا بھی بارہا مطالبہ کیا ہے۔ بن گویر نے غزہ کے لئے انسانی امداد کی بحالی کے فیصلے کو "بڑی اور سنگین غلطی" قرار دیا تھا جبکہ برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لمی (David Lammy) نے قبل ازیں دونوں وزراء پر پابندیاں عائد کرنے سے متعلق اپنے ملک کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے بیانات کو "وحشیانہ" قرار دیا تھا!

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پابندیاں عائد انتہاء پسند برطانیہ نے وزراء پر بن گویر کیا ہے

پڑھیں:

صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح پر تبادلہ خیال

ملاقات کے دوران صدر آصف زرداری نے کہا کہ بلوچستان میں پائیدار امن، معاشی استحکام اور ترقی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے تمام متعلقہ اداروں کو باہمی رابطے اور مؤثر ہم آہنگی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے وزراء نے بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات کی، جس میں صوبے کی امن و امان کی صورتحال، جاری ترقیاتی منصوبوں، عوامی فلاح اور مجموعی انتظامی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران صدر مملکت نے بلوچستان میں ترقیاتی عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور بلوچستان کی ہمہ جہت ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ آصف علی زرداری نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کی جائے تاکہ عوام جلد از جلد ان کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔ 

صدر مملکت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے، عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مربوط حکمت عملی اختیار کی جائے۔ ملاقات میں صوبائی وزیر آبپاشی صادق عمرانی، وزیر منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیر صحت میر بخت کاکڑ، وزیر لائیو اسٹاک سردار فیصل جمالی، وزیر صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیر محنت غلام رسول عمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری بھی شریک تھے۔

متعلقہ مضامین

  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح پر تبادلہ خیال
  • آسٹریلیا نے جوہری آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب ڈالر مختص کردیے، آکس معاہدے پر عملدرآمد تیز کرنے کا اعلان
  • پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ