اسمگل شدہ گاڑیوں کی روک تھام کیلئے نیا قانون تجویز، چیسس نمبر میں چھیڑ چھاڑ پر گاڑی ضبط ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی حکومت نے اسمگل شدہ گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے لیے نیا قانون تجویز کر دیا، جس کے تحت ایسی گاڑیاں جو چیسس نمبر میں چھیڑ چھاڑ یا تبدیلی کی شکار ہوں گی، انہیں ضبط کر لیا جائے گا۔
مجوزہ نئے قانون کے مطابق اگر کسی گاڑی کا چیسس نمبر تبدیل یا کٹ اینڈ ویلز کیا گیا ہو یا چیسس نمبر میں کوئی ایسا مواد بھرا گیا ہو جو اس کی اصل حالت کو چھپانے کے لیے استعمال کیا گیا ہو تو اسے اسمگل شدہ تسلیم کیا جائے گا، چاہے وہ کسی بھی موٹر رجسٹریشن اتھارٹی سے رجسٹرڈ ہو قانون کے تحت گاڑیوں کی فارنزک تحقیقات کی جائیں گی تاکہ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ کا پتا چلایا جا سکے۔
مجوزہ قانون کے تحت اگر گاڑی کی فارنزک تحقیقات میں چیسس نمبر یا اس کے حصے میں کوئی تبدیلی یا چھیڑ چھاڑ کی نشان دہی ہوتی ہے تو اس گاڑی کو اسمگل شدہ سمجھا جائے گا اور فوراً ضبط کر لیا جائے گا۔
حکومت کی جانب سے یہ سخت اقدامات اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے کیے جا رہے ہیں تاکہ غیر قانونی طریقے سے درآمد کی جانے والی گاڑیوں کا خاتمہ کیا جا سکے اور سڑکوں پر صرف قانونی اور محفوظ گاڑیاں چلائی جا سکیں۔
حکومتی ذرائع کے مطابق یہ قانون گاڑیوں کی چوری اور غیر قانونی تجارت کو روکنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
حکام نے عوام کو آگاہ کیا ہے کہ وہ ایسی کسی بھی گاڑی کی خریداری سے اجتناب کریں جس میں چیسس نمبر میں چھیڑ چھاڑ یا غیر معمولی تبدیلی ہو، اس کے علاوہ، گاڑیوں کے مالکان سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں کی فارنزک چیکنگ کروا کر ان کے قانونی ہونے کو یقینی بنائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چیسس نمبر میں اسمگل شدہ چھیڑ چھاڑ گاڑیوں کی جائے گا
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔