اسلام آباد:

وفاقی حکومت نے اسمگل شدہ گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے لیے نیا قانون تجویز کر دیا، جس کے تحت ایسی گاڑیاں جو چیسس نمبر میں چھیڑ چھاڑ یا تبدیلی کی شکار ہوں گی، انہیں ضبط کر لیا جائے گا۔

مجوزہ نئے قانون کے مطابق اگر کسی گاڑی کا چیسس نمبر تبدیل یا کٹ اینڈ ویلز کیا گیا ہو یا چیسس نمبر میں کوئی ایسا مواد بھرا گیا ہو جو اس کی اصل حالت کو چھپانے کے لیے استعمال کیا گیا ہو تو اسے اسمگل شدہ تسلیم کیا جائے گا، چاہے وہ کسی بھی موٹر رجسٹریشن اتھارٹی سے رجسٹرڈ ہو قانون کے تحت گاڑیوں کی فارنزک تحقیقات کی جائیں گی تاکہ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ کا پتا چلایا جا سکے۔

مجوزہ قانون کے تحت اگر گاڑی کی فارنزک تحقیقات میں چیسس نمبر یا اس کے حصے میں کوئی تبدیلی یا چھیڑ چھاڑ کی نشان دہی ہوتی ہے تو اس گاڑی کو اسمگل شدہ سمجھا جائے گا اور فوراً ضبط کر لیا جائے گا۔

حکومت کی جانب سے یہ سخت اقدامات اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے کیے جا رہے ہیں تاکہ غیر قانونی طریقے سے درآمد کی جانے والی گاڑیوں کا خاتمہ کیا جا سکے اور سڑکوں پر صرف قانونی اور محفوظ گاڑیاں چلائی جا سکیں۔

حکومتی ذرائع کے مطابق یہ قانون گاڑیوں کی چوری اور غیر قانونی تجارت کو روکنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

حکام نے عوام کو آگاہ کیا ہے کہ وہ ایسی کسی بھی گاڑی کی خریداری سے اجتناب کریں جس میں چیسس نمبر میں چھیڑ چھاڑ یا غیر معمولی تبدیلی ہو، اس کے علاوہ، گاڑیوں کے مالکان سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں کی فارنزک چیکنگ کروا کر ان کے قانونی ہونے کو یقینی بنائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: چیسس نمبر میں اسمگل شدہ چھیڑ چھاڑ گاڑیوں کی جائے گا

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی