کوئٹہ، موٹر سائیکل کی رجسٹریشن اور نمبر پلیٹس لازمی قرار، کارروائی ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
ایس ایس پی ٹریفک پولیس کوئٹہ ڈاکٹر سمیع ملک نے کہا ہے کہ موٹر سائیکل پر دونوں نمبر پلیٹ کا لگانا لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ نان رجسٹرڈ موٹر سائیکلوں کیخلاف بھی کارروائی ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں موٹر سائیکل سواروں کو ٹریفک قوانین کی پاسداری کروانے کے لئے سختی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایس ایس پی ٹریفک پولیس کوئٹہ ڈاکٹر سمیع ملک نے کہا ہے کہ موٹر سائیکل پر دونوں نمبر پلیٹ کا لگانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ موٹر سائیکلوں کی رجسٹریشن اور مکمل کاغذات کا ساتھ رکھنا ضروری ہے۔ ٹریفک پولیس اس حوالے سے خصوصی مہم بھی شروع کر رہی ہے، تاکہ شہر میں ٹریفک نظام کو مؤثر اور محفوظ بنایا جاسکے۔ ایس ایس پی ٹریفک نے والدین سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے نوعمر بچوں کو موٹر سائیکل چلانے نہ دیں، تاکہ سڑکوں پر پیش آنے والے حادثات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: موٹر سائیکل
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔