ٹل، پاراچنار مین شاہراہ کو طویل عرصہ بعد مسافروں کیلئے کھول دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
ضلعی انتظامیہ کے مطابق بحالی کے پہلے دن مجموعی طور پر 480 سے زائد گاڑیوں اور 2200 سے زائد مسافروں نے بلا خوف و خطر سفر کیا۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہونے کے بعد ٹل سے پارا چنار کی مرکزی شاہراہ کو آمد و رفت کیلیے ایک طویل عرصہ بعد کھول دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ضلعی اتنظامیہ اور سیکیورٹی اداروں نے ٹل سے پارا چنار مرکزی شاہراہ کو آمد و رفت کیلیے کھول دیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق بحالی کے پہلے دن مجموعی طور پر 480 سے زائد گاڑیوں اور 2200 سے زائد مسافروں نے بلا خوف و خطر سفر کیا۔ سیکیورٹی اور سہولت کے پیش نظر 79 ایمبولینسز و ایمرجنسی گاڑیوں میں 850 افراد نے سفر کیا جب کہ 117 گاڈیوں کے زیعے 468 مسافر منزل تک پہنچے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروری سامان کی ترسیل کے لیے 142 مال بردار گاڑیاں بھی چلائی گئیں، جس کے بعد ٹل، پاراچنار اور سدہ کے درمیان سامان فراہم کیا گیا۔ ضلعی انتظامیہ کے ماطبق اپر کرم میں بھی نقل و حرکت مکمل طور پر بحال کر دی گئی ہے۔ جہاں 151 گاڑیوں کے ذریعے 1130 سے زائد افراد نے سفر کیا۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات عوام کے تحفظ، بین المسلکی ہم آہنگی اور معمولات زندگی کی بحالی کے لیے کئے جا رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ضلعی انتظامیہ کے کے مطابق سفر کیا
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔