جتنا ریلیف دے سکتے تھے دے دیا، وزیرخزانہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ بجٹ میں جتنا ریلیف دے سکتے تھے دیا ہے، مہنگائی کی شرح ہمارے ہدف سے بھی کم رہی، ایف بی آر میں ٹرانسفارمیشن کی جا رہی ہے جو اہم ہے، تنخواہ دار طبقے کے لیے فارم بنایا جارہا ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ ملک میں میکرواکنامک استحکام آچکا ہے، اسٹرکچرل ریفارمز کہنا آسان ہے اور کرنا مشکل ہے، اسٹرکچرل ریفارمز کی بنیاد رکھی جا چکی ہے، بجٹ میں عوام کو جتنا ریلیف دے سکتے تھے دیا ہے۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ ہم بار بار کہتے ہیں یہ آئی ایم ایف کا آخری پروگرام ہوگا، وزیراعظم نے عملدرآمد کمیٹی کی سربراہی مجھے دی ہے، ہم نے 5 سال کا منصوبہ دے دیا ہے، بیلنس آف پیمنٹ کا مسئلہ آیا تو درآمدات کم کی گئیں، مشینری کی امپورٹ بڑھ رہی ہے جو مثبت ہے، گندم اور کپاس کی پیداوار میں کمی آئی ہے، بجٹ میں ہماری کوشش تھی سمت درست کریں۔
انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی شرح ہمارے ہدف سے بھی کم رہی، ایڈیشنل ٹیکسز کا حجم 200 سے 250 ارب روپے ہے، ضم اضلاع پر ٹیکس نہیں لگایا، سیلز ٹیکس میں 47 فیصد اضافہ ہوا، ایف بی آر میں ٹرانسفارمیشن کی جا رہی ہے جو اہم ہے، تنخواہ دار طبقے کیلئے فارم بنایا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کا لائف اسٹائل ڈیٹا ہمیشہ سے نادرا میں موجود ہے، شناختی کارڈ سے پتہ چل جاتا ہے ہم کتنا ٹیکس دیتے ہیں، میں اور وزیراعظم تنخواہ نہیں لیتے، اللہ کرے ہماری آئی ٹی ایکسپورٹ بڑھتی رہے، ہمارے منرلز اینڈ مائننگ کے شعبے میں صلاحیت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نے کہا
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔