برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور ناروے نے اسرائیلی وزرا پر پابندی لگا دی
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
مغربی کنارے میں معصوم فلسطینیوں کے خلاف انتہا پسندانہ تشدد کو ہوا دینے پر دو اسرائیلی وزرا کو مختلف ممالک کی جانب سے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق دو انتہاپسند اسرائیلی وزرا ایتمار بین گویر اور بیزالیل سموٹریچ کے اثاثے منجمد اور سفری پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
اسرائیلی وزیر خزانہ اور قومی سلامتی کے وزیر پر یہ پابندیاں برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا، نیوزی لینڈ اور ناروے نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کیخلاف انتہا پسندی کو ہوا دینے پر عائد کی ہیں۔
ان پانچوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ بین گویر اور سموٹریچ نے فلسطینیوں کے خلاف انتہا پسندانہ تشدد پر اکسایا اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب ہوئے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان وزرا کی مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی ان کے گھروں سے جبری بیدخلی اور نئی یہودی بستیوں کی آبادکاری کی حمایت کرنے والی انتہا پسندانہ بیان بازی خوفناک اور خطرناک ہے۔
خیال رہے کہ پابندی عائد کرنے والے یہ ممالک اسرائیل کے حلیف ممالک رہے ہیں اور نیتن یاہو کی حکومت کے لیے ہمدردیاں رکھنے کے باوجود اسرائیلی وزرا کی انتہاپسندی کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔
ان ممالک نے مغربی کنارے میں اسرائیل کی آبادکاری کی پالیسیوں اور یہودی آباد کاروں کے فلسطینیوں پر تشدد کی شدید سرزنش بھی کی تھی۔
پابندی کے شکار اسرائیلی وزرا نے پابندی کے خلاف سوشل میڈیا پر لکھا کہ انھیں پتہ چلا کہ برطانیہ نے فلسطینی ریاست کے قیام میں رکاوٹ ڈالنے پر ان پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم نے فرعون پر قابو پایا تھا، ہم اسٹارمر کی دیوار بھی پار کرلیں گے۔
اسرائیل کے وزیر خارجہ نے اس اقدام کو "اشتعال انگیز" قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نیتن یاہو سے بات ہوئی ہے وہ اس پر اگلے ہفتے ملاقات کریں گے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل جوبائیڈن انتظامیہ نے بھی مغربی کنارے میں تشدد میں ملوث بنیاد پرست اسرائیلی آباد کاروں پر پابندیاں عائد کی تھیں۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے 1967 کی مشرق وسطی کی جنگ میں مشرقی یروشلم اور غزہ کی پٹی کے ساتھ مغربی کنارے پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسرائیلی وزرا
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔