ادارے کیا کر رہے ہیں، سب کے سامنے ہے، 76 سالہ فرعونیت جلد ختم ہوگی، علی امین
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ 26ویں ترمیم سے عدلیہ پر مارشل لا لگا دیا گیا ہے، ادارے کیا کر رہے ہیں، سب کے سامنے ہے، ان کی جلد فرعونیت ختم ہوجائے گی، 76 سال کی فرعونیت جلد ختم ہو جائے گی۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ وکیل صاحب نے آج ڈرامہ لگایا، کہتے ہیں کہ ہمیں آج کیس کا علم ہی نہیں، آج جج صاحب چھٹی پر چلے گئے، آنے والے دنوں میں بھی انہوں نے ایسے ہی بہانے کرنے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک جھوٹا کیس ہے، اس کیس میں کچھ بھی نہیں ہے، ہم اپنا آئینی حق سڑکوں پر لے سکتے ہیں، آخری مرتبہ انہوں نے ہم پر گولیاں چلائیں۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا میری گولیوں والی بات کاٹ دیتا ہے، میں کہ رہا ہوں، میری یہ بات بھی چلاؤ، آپ کے پاس ہتھیار ہیں گو اس بار ہم بھی ہتھیار ساتھ لے کر آئیں گے۔
علی امین نے کہا کہ اوور سیز بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں، بانی پی ٹی آئی ملک کہ عزت و وقار کی آواز بن رہے ہیں، اس لئے اوورسیز پاکستانی ان سے پیار کرتے ہیں، بانی پی ٹی آئی قوم کے لیے کھڑے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نہ جھکنے والا ہے نہ ڈیل کرنے والا ہے، بانی پی ٹی آئی جیل میں بنی گالہ سے بھی زیادہ مضبوط ہے، اس تحریک میں سب آر یا پار ہو جائے گا۔
علی امین نے کہا کہ ادارے کیا کر رہے ہیں، سب کے سامنے ہے، ان کی جلد فرعونیت ختم ہوجائے گی، 76 سال کی فرعونیت جلد ختم ہو جائے گی۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی علی امین رہے ہیں نے کہا
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔