وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ 26ویں ترمیم سے عدلیہ پر مارشل لا لگا دیا گیا ہے، ادارے کیا کر رہے ہیں، سب کے سامنے ہے، ان کی جلد فرعونیت ختم ہوجائے گی، 76 سال کی فرعونیت جلد ختم ہو جائے گی۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ وکیل صاحب نے آج ڈرامہ لگایا، کہتے ہیں کہ ہمیں آج کیس کا علم ہی نہیں، آج جج صاحب چھٹی پر چلے گئے، آنے والے دنوں میں بھی انہوں نے ایسے ہی بہانے کرنے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک جھوٹا کیس ہے، اس کیس میں کچھ بھی نہیں ہے، ہم اپنا آئینی حق سڑکوں پر لے سکتے ہیں، آخری مرتبہ انہوں نے ہم پر گولیاں چلائیں۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا میری گولیوں والی بات کاٹ دیتا ہے، میں کہ رہا ہوں، میری یہ بات بھی چلاؤ، آپ کے پاس ہتھیار ہیں گو اس بار ہم بھی ہتھیار ساتھ لے کر آئیں گے۔

علی امین نے کہا کہ اوور سیز بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں، بانی پی ٹی آئی ملک کہ عزت و وقار کی آواز بن رہے ہیں، اس لئے اوورسیز پاکستانی ان سے پیار کرتے ہیں، بانی پی ٹی آئی قوم کے لیے کھڑے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نہ جھکنے والا ہے نہ ڈیل کرنے والا ہے، بانی پی ٹی آئی جیل میں بنی گالہ سے بھی زیادہ مضبوط ہے، اس تحریک میں سب آر یا پار ہو جائے گا۔

علی امین نے کہا کہ ادارے کیا کر رہے ہیں، سب کے سامنے ہے، ان کی جلد فرعونیت ختم ہوجائے گی، 76 سال کی فرعونیت جلد ختم ہو جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی علی امین رہے ہیں نے کہا

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق