ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ سمندر پار پاکستانیوں کا حکومت پر بڑھتے ہوئے اعتماد کا ثبوت ہے، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مئی 2025 کے دوران ترسیلات زر میں اضافے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بیرون ملک میں مقیم پاکستانوں کا حکومتی پالیسیوں پر بڑھتے ہوئے اعتماد کا ثبوت ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ رواں مالی سال ترسیلات زر کی مد میں 34.9 ارب امریکی ڈالرز موصول ہوئے جو کہ پچھلے مالی سال کے مقابلے 28.
انہوں نے کہا کہ مئی 2025 کے دوران ترسیلات زر میں 3.7 ارب امریکی ڈالرز موصول ہوئے جو گزشتہ سال مئی کے مقابلے میں 13.7 فیصد زیادہ ہیں۔
وزیراعظم نے کاہ کہ ترسیلات زر میں اضافہ حکومتن کی معاشی پالیسیوں پر سمندر پار پاکستانیوں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا ثبوت ہے، حکومت کے معاشی اقدامات اور اگلے مالی سال کے لئے عوام دوست بجٹ ملک کے روشن مستقبل کی نوید ہیں۔
وزیراعظم نے ریکارڈ ترسیلات زر موصول ہونے پر حکومت کی معاشی ٹیم کو خراج تحسین بھی پیش کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ترسیلات زر میں
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :