صبا قمر نے عید کس منفرد انداز میں گزاری؟ پوسٹ نے دل جیت لیے
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
عید کے موقع پر جب تمام شوبز شخصیات اپنی دیدہ زیب تصاویر سے سوشل میڈیا کی زینت بڑھا رہی تھیں، معروف اداکارہ صبا قمر نے ایک منفرد راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے عید کی کوئی تصویر شیئر نہیں کی، جس پر مداحوں کے تجسس نے انہیں وجہ بتانے پر مجبور کردیا۔
صبا قمر نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر مداحوں کو بتایا کہ اس بار انہوں نے جان بوجھ کر عید کی روایتی تیاریوں سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا، ’’میرے پیارو! میں جانتی ہوں آپ میری عید کی تصاویر کے منتظر تھے، لیکن اس بار کوئی خاص جھلک تھی ہی نہیں۔‘‘
اداکارہ نے اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ کئی مہینے مسلسل کام اور سفر میں گزرنے کے بعد انہیں آرام کی شدید ضرورت تھی۔ ’’میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ مجھے یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں۔ میں نے سچا، سادہ اور روح کو سکون دینے والا آرام چنا‘‘۔
انہوں نے اپنی عید کی روٹین شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے یہ تین دن بالوں میں تیل لگا کر، مزیدار کھانے کھا کر اور خاموش دعائیں مانگتے ہوئے گزارے۔ ان کا کہنا تھا کہ کبھی کبھی انسان کو رک کر سانس لینے اور اپنے آپ کو وقت دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔
صبا قمر نے مداحوں سے وعدہ کیا کہ وہ جلد ہی اپنی معمول کی روٹین میں واپس آ جائیں گی۔ انہوں نے اپنے مداحوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، ’’آپ سب کا تہہ دل سے شکریہ کہ آپ ہمیشہ مجھے سمجھتے ہیں اور میری کمی کو محسوس کرتے ہیں۔‘‘
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔