احتیاظ کرو، ورنہ اگلا نمبر تمھارا ہوگا۔صحیفہ جبار نے ایساکیاکیاجس پرعوام آگ بگولہ ہوگئے
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
اونٹاریو(نیوز ڈیسک)پاکستانی ماڈل و اداکارہ صحیفہ جبار خٹک ایک بار پھر سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں — مگر اس بار وجہ کچھ مختلف ہے۔
کچھ ماہ قبل، مارچ 2025 میں صحیفہ نے انسٹاگرام پر ایک گہرا اور جذباتی پیغام شیئر کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وہ جلد تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو خیرباد کہہ دیں گی۔ اس اعلان کے بعد نہ صرف انہوں نے اپنا فیس بُک اکاؤنٹ ختم کر دیا بلکہ انسٹاگرام پر بھی تمام پوسٹس ہٹا دی تھیں۔
تاہم، حالیہ دنوں میں وہ ایک نئے انداز میں واپس آئی ہیں — اور ان کی پوسٹس نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔
صحیفہ کی جانب سے شیئر کی جانے والی کچھ مونوکروم تصاویر، جن میں ان کا چہرہ تو نمایاں نہیں، مگر گردن، کندھے اور بازو واضح دکھائی دے رہے ہیں، کئی صارفین کے لیے حیرت اور کچھ کے لیے تنقید کا باعث بن گئی ہیں۔
View this post on InstagramA post shared by Saheefa Jabbar Khattak (@saheefajabbarkhattak)
ابتدائی طور پر شیئر کی گئی چند متنازع تصاویر کو مداحوں نے اکاؤنٹ ہیک ہونے کا نتیجہ قرار دیا، مگر صحیفہ نے جلد ہی وہ تصاویر ہٹا دیں۔ اس کے بعد ایک اور تصویر سامنے آئی، اور ساتھ ہی تنقیدی تبصروں کا طوفان بھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ تنقید کرنے والوں کو صحیفہ نے نہ صرف کھری کھری سنائیں، بلکہ ان کے کمنٹس کے اسکرین شاٹس لیکر اسٹوریز میں پوسٹ بھی کیے — جس پر کچھ صارفین نے طنز کرتے ہوئے لکھا، “احتیاط کرو، ورنہ اگلا اسکرین شاٹ تمہارا ہوگا۔”
ایک طرف مداح ان کے انداز کو ‘ایکسپریسو آرٹ’ قرار دے رہے ہیں، تو دوسری طرف کئی سوشل میڈیا صارفین اس طرز کو حد سے تجاوز کہہ رہے ہیں۔
یہ واضح ہے کہ صحیفہ جبار کا انسٹاگرام اب صرف تصویری پوسٹس تک محدود نہیں رہا — یہ ایک ایسا میدان بن چکا ہے جہاں وہ خود پر ہونے والی تنقید کا جواب تخلیقی اور دو ٹوک انداز میں دے رہی ہیں۔
7 مزیدپڑھیں:ممالک جو سیاحوں کو اب برداشت نہیں کرتے، جانے سے پہلے ضرور جان لیں
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔