Express News:
2026-07-24@07:18:28 GMT

بجٹ کی بہت سی خفیہ چیزیں بعد میں سامنے آتی ہیں

اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT

لاہور:

سابق وفاقی وزیر ہمایوں اخترخان نے کہاہے کہ گذشتہ برس تین چار چیزیں اچھی ہوئیں جس کا سہرا موجودہ حکومت کودینا چاہیے، روپیہ مستحکم رہا، افراط زراور انٹرسٹ ریٹ نیچے آیا۔ 

انھوں نے ایکسپریس نیوز کے پروگرام ’’ایکسپرٹس‘‘ میں گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ سپرٹیکس کچھ کم کردیا، رئیل اسٹیٹ پر خریداروں کیلیے گین ٹیکس میں کچھ رعایت دیدی، سب سے زیادہ ریونیو صنعت سے آتا ہے جو آدھی سے زیادہ بند پڑی ہے یا بند ہو جائے گی۔ 

گروپ ایڈیٹر ایازخان نے کہا کہ ہمیں اضافی ٹیکسوں کیلیے تیار رہنا ہوگا، پہلے سولرپینل لگوانے کی گردان سنتے رہے اب سولرپرٹیکس لگادیا، آئی ٹی کے فری لانسرنوجوانوںکاپہلے بھی بیڑا غرق کیا اب پتہ نہیں کیسے فروغ دینا چاہتے ہیں؟، موجودہ بجٹ بظاہر متوازن ہے تاہم بہت چیزیں خفیہ ہوتی ہیں جو بعد میں سامنے آتی ہیں۔ 

تجزیہ کار شہبازرانا نے کہا کہ موجودہ بجٹ سے افراط زرکاسونامی نظر نہیں آرہا،کاربن لیوی اور فرنس آئل پر ٹیکس سے بجلی کی قیمت میں معمولی فرق پڑے گا، مہنگائی مسئلہ نہیں بلکہ حکومت چاہتی کیا ہے؟، اس کی سمت کیا ہے؟، کیا وہ ڈیجیٹل معیشت چاہتی ہے؟۔

بیوروچیف اسلام آباد عامر الیاس رانا نے کہاکہ وزیراعظم شہبازشریف کو ایف بی آر قابو کرکے پورا ٹیکس وصول کرنا ہوگا ورنہ سب گپیں ہیں۔

بیوروچیف کراچی فیصل حسین نے کہاکہ موجودہ بجٹ عوامی ہے نہ تاجر دوست ہے، اس میں نئے ٹیکس لگانے کی کوشش کی گئی، اصل مسئلہ ٹیکس چوری ہے،جن کی اکثریت فائلر ہے، تعلیم کا بجٹ کم کرکے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بڑھادیا؟،کراچی میں اربوں روپے کا پانی فروخت کیا جاتا ہے،وزیراعظم کے وعدے کے باوجود کے فور ممکن نظر نہیں آرہا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط

پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

متعلقہ مضامین

  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی