برطانیہ : فیملی ویزے کے لیے سالانہ آمدن کی شرط کم رکھنے کی سفارش
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) برطانیہ میں فیملی ویزے کے لیے سابقہ حکومت کی سالانہ آمدن کی شرائط مسترد کر دی گئیں۔ خبررساں اداروں کے مطابق برطانیہ کی مائیگریشن ایڈوائزری کمیٹی نے اپنی جائزہ رپورٹ جاری کر دی، جس میں فیملی ویزے کے لیے گزشتہ حکومت کی سالانہ آمدن کی شرائط مسترد کی گئی ہیں۔ رپورٹ میں سالانہ آمدن 23 اور 25 ہزار کے درمیان رکھنے کی سفارش کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ سالانہ آمدن کم کرنے سے مائیگریشن میں 3 فی صد اضافہ کا امکان ہے۔ یاد رہے کہ ٹوری حکومت نے گزشتہ سال فیملی ویزے کے لیے کم ازکم آمدن 29 ہزار کر دی تھی، جو رواں سال بڑھ کر 38 ہزار 700 ہونا تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فیملی ویزے کے لیے سالانہ ا مدن
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔