بجٹ کے نام پر آئی ایم ایف کا مسودہ پڑھ کرسنایاگیا‘ طارق سلیم
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(نمائندہ جسارت )امیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر طارق سلیم نے وفاقی بجٹ پر اپنے ردعمل دیتے ہو ئے کہا ہے کہ وفاقی وزیر خزانہ نے بجٹ کے نام پر آئی ایم ایف کا دیا گیا مسودہ قوم کو پڑھ کر سنا دیا ہے ،جبکہ وفاقی بجٹ میں غر یب ،متوسط اور کاروباری طبقے پر280 ارب روپے سے زائد ٹیکسوں کا پہاڑ لاد دیا گیا ہے ، اتنے برے معاشی حالات میں بھی مراعات یافتہ طبقے ارکان پارلیمنٹ اسپیکر اور چیئرمین سینیٹ نے اپنی تنخواہ 6 گنا بڑھا لی ہے جبکہ سرکاری ملازمین اور پنشن کی تنخواہوں میں اضافہ اُونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا پیٹرولیم لیوی100 روپے سے تجاوز کر گئی ہے، چودہ ہزار ارب سے زائد کے ٹیکس ہدف کو حاصل کرنے کی کوشش
سے معیشت مزید کمزور ہو جا ئے گی،65 ہزارارب سے زائد کا خسارے کا بجٹ اعداد و شمار کے ہیر پھیر کے سوا کچھ نہیں،آٹھ ہزار پانچ سو ارب روپے سے زائد سود کی ادائیگی اور قرضوں سے نجات کا کوئی قابل عمل طریقہ بجٹ میں موجود نہیں ہے، ٹیکس نیٹ میں اضافہ کرنے کے بجائے پرانے فائلرز پر ہی ٹیکس کے بوجھ میں اضافہ کیا جا رہا ہے بینکنگ ٹرانزیکشن پر ٹیکس کی اسکیم ماضی میں ناکام ہو چکی ہے دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتو ں میں ریکارڈ کم آئی ہے جبکہ ہمارے ملک میں عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا فائدہ عوام تک منتقل نہیں کیا جا رہا ہے جبکہ کارڈ کے بغیر پیٹرول ڈلوانے پر 2 تا 3 روپے فی لیٹر اضافی رقم کی شرط ختم کی جائے ایسے اقدام عوام دشمنی کے مترادف ہیں،ڈاکٹر طارق سلیم نے کہا بجلی کی بنیادی قیمت کو کم اور 13 قسم کے ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر معیشت کی ترقی ممکن نہیںاس لیے ملک میں آئی پی پیز کے ساتھ ختم کیے گئے معاہدوں کے ثمرات عوام تک منتقل کیے جا ئیں اور بجلی کی قیمتیں مزید کم کی جا ئیں ، انھوں نے کہا ملک میں مو جو د سات کروڑ سے زائد مزدوروں کے لئے تعلیم ،علاج اور چھت کی فراہمی کو یقینی بنایا جا ئے ،سات کروڑ مزدور سوشل سیکیورٹی اور سماجی تحفظ کے دیگر پرو گراموں EOBI،ورکر ویلفیئر فنڈ سے محروم ہیں ، حکومت مزدورں کی اس محرومی کا فوری طور پر ازالہ کر ے اورپاکستان میں اربوں روپے کی ٹیکس چوری ختم کی جا ئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔