نیتن یاہو نے فلسطینیوں کو فوری طور پر غزہ خالی کرنے کا حکم دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
TEL AVIV:
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے غزہ شہر کے باشندوں کو سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ وہ فوری طور پر علاقے سے نکل جائیں کیونکہ اسرائیلی فوج نے فلسطینی علاقے پر اپنی زمینی اور فضائی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
نیتن یاہو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ہم نے دو دن میں 50 دہشت گرد ٹاورز کو تباہ کیا ہے، اور یہ صرف ابتدائی مرحلہ ہے۔ غزہ شہر میں زمینی کارروائی کو مزید شدت دی جائے گی۔ میں مقامی لوگوں کو صاف صاف کہتا ہوں کہ آپ کو وارننگ دی جا چکی ہے ابھی نکلیں۔
עדכון חשוב >> pic.
اسرائیلی فوج نے غزہ شہر میں ہوا کے طوفان کی مانند بمباری شروع کر دی ہے جسے انہوں نے زبردست طوفان قرار دیا ہے، اور حماس کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے تمام یرغمالیوں کو آزاد نہ کیا اور ہتھیار نہ ڈالے تو یہ علاقہ مکمل تباہی کے دہانے پر ہے۔
اسرائیلی دفاعی وزیر اسرائیل کاتز نے ٹوئٹر پر لکھا کہ آج غزہ شہر کے آسمانوں پر زبردست طوفان آئے گا اور دہشت گرد ٹاورز کی چھتیں ہل جائیں گی۔
کاتز نے مزید کہا کہ یہ حماس کے قاتلوں اور زبردستی کرنے والوں کے لیے آخری وارننگ ہے یرغمالیوں کو آزاد کرو یا غزہ کا مکمل صفایا ہو جائے گا۔
واضح رہے کہ اسرائیل کی فوج نے دو روز قبل غزہ شہر کے ایک 12 منزلہ بلاک کو تباہ کر دیا تھا جہاں بے گھر خاندان مقیم تھے، تین گھنٹے قبل ہی فوج نے وہاں موجود افراد کو اور آس پاس ہزاروں خیموں میں مقیم لوگوں کو نکلنے کی ہدایت دی تھی۔
فوج کا کہنا ہے کہ اس عمارت کو حماس نے اپنے دہشت گردوں کے لیے آپریشنز کی منصوبہ بندی اور جاسوسی کے لیے استعمال کیا تھا اور وہیں سے حملے کی تیاری کی جاتی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فوج نے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔