کے الیکٹرک کا شہر قائد میں ممکنہ بارشوں کے حوالے سے اہم بیان سامنے آ گیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
کراچی:
بھارت سے آنے والا مون سون اسپیل سندھ میں بارش برساتا ہوا کراچی تک پہنچ گیا ہے، تاہم کے-الیکٹرک کے ترجمان عمران رانا نے بتایا ہے کہ بارش کے باوجود شہر میں بجلی کی فراہمی مجموعی طور پر معمول کے مطابق ہے۔
عمران رانا کے مطابق مون سون کے اس سسٹم کے تحت شہر کے مرکزی اور مضافاتی علاقوں میں کہیں ہلکی تو کہیں تیز بارش کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کے-الیکٹرک ہائی الرٹ پر ہے اور دیگر شہری اداروں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں کے-الیکٹرک کے 2100 سے زائد فیڈرز میں سے صرف 60 سے کم فیڈرز عارضی طور پر متاثر ہوئے ہیں، جنہیں جلد بحال کیا جا رہا ہے۔
بعض نشیبی علاقوں، کنڈے اور بجلی چوری والے علاقوں کے فیڈرز کو حفاظتی نقطہ نظر سے بند کیا گیا ہے تاکہ انسانی جانوں کو نقصان سے بچایا جا سکے۔
کے-الیکٹرک کی مرکزی کنٹرول روم ٹیم شہر بھر میں بجلی کی فراہمی پر مسلسل نگرانی کر رہی ہے، اور تمام اہم تنصیبات اور اسٹریٹجک مقامات، خاص طور پر اسپتالوں اور ایمرجنسی سروسز کو بجلی کی فراہمی ترجیحی بنیادوں پر بحال رکھی گئی ہے۔
عمران رانا نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ننگے پاؤں یا گیلے ہاتھوں سے بجلی کے آلات کو نہ چھوئیں، اور بچوں کو بجلی کے آلات سے دور رکھیں۔ اگر کہیں کوئی بجلی کی تار ٹوٹی ہوئی نظر آئے تو فوری طور پر 118 پر اطلاع دیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہری اپنی انفرادی شکایات کے لیے کے-الیکٹرک کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز یا "کے ای لائیو" ایپ کا استعمال کریں۔
انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ انسانی جان کی حفاظت کے-الیکٹرک کی اولین ترجیح ہے، اور اسی لیے مسلسل احتیاطی پیغامات بھی سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے نشر کیے جا رہے ہیں۔
عمران رانا نے بتایا کہ صرف کے-الیکٹرک کی تنصیبات ہی نہیں بلکہ اسٹریٹ لائٹس، انٹرنیٹ لیبلز اور ٹریفک سگنلز بھی بجلی سے چلتے ہیں، اس لیے عوام کو عمومی احتیاطی تدابیر اپنانے کی ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے الیکٹرک بجلی کی
پڑھیں:
کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
فائل فوٹو۔جناح اسپتال کراچی کے واش روم میں بچے کی پیدائش کے معاملے پر تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرکو جمع کروا دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا متاثرہ خاتون رات ساڑھے 9 بجے گائنی وارڈ میں آئی، گائنی وارڈ میں کسی نے بھی خاتون کو طبی امداد نہیں دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق خاتون کا الٹرا ساؤنڈ نہیں کروایا گیا اور چہل قدمی کا مشورہ دیا گیا۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق کنسلٹنٹ اور آر ایم او ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے، مریضوں کے ساتھ آنے والے مرد گائنی وارڈ کے احاطےمیں موجود تھے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق میڈیکل آفسر کو محکمہ صحت بھیجنے اور ڈیوٹی پر موجود پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کی 3 ماہ مزید ٹریننگ کی تجویز ہے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں سیکیورٹی گارڈز کی ڈیوٹی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی کی جانب سے بنائی گئی رپورٹ سیکریٹری اور وزیر صحت کو دے دی گئی۔