کیا اب بینک سے رقم نکالنے والے شہریوں کو پولیس سیکیورٹی فراہم کی جائے گی؟
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
شہر کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر، عام شہریوں کے تحفظ اور سہولت کے لیے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) ڈسٹرکٹ ساؤتھ کراچی، منظور علی کی جانب سے بینکوں کے لیے ایک اہم ایڈوائزری جاری کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ پولیس کیجانب سے نجی سیکیورٹی گارڈز کوٹریننگ دینے کا فیصلہ، مگر کیوں؟
ایس ایس پی ساؤتھ نے ہدایت کی ہے کہ بینکوں میں تعینات سیکیورٹی گارڈز نہ صرف تجربہ کار ہوں بلکہ باقاعدہ تربیت یافتہ بھی ہوں۔ انہیں بلٹ پروف جیکٹس اور میٹل ڈیٹیکٹرز فراہم کیے جائیں اور واک تھرو گیٹس کی تنصیب کو بھی یقینی بنایا جائے۔
اس کے علاوہ گارڈز کے لیے موبائل بنکنگ یونٹس بھی تشکیل دیے جائیں تاکہ وہ ہنگامی حالات میں فوری کارروائی کر سکیں۔
ایڈوائزری میں بینکوں کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 8 میگا پکسل یا اس سے زائد ریزولیوشن کے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کریں جو رات کے وقت بھی مؤثر ریکارڈنگ کی صلاحیت رکھتے ہوں، اور کم از کم 30 دن کی ویڈیو کا بیک اپ محفوظ رکھ سکیں۔
اگر کوئی مشکوک شخص بغیر کسی کام کے بینک میں موجود ہو، تو اس کی اطلاع فوری طور پر قریبی پولیس کو دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں:’سندھ پولیس سے بچایا جائے ورنہ ہم کراچی چھوڑ دیں گے‘، چینی سرمایہ کار حفاظت کے لیے عدالت پہنچ گئے
ایس ایس پی ساؤتھ کے مطابق، اے ٹی ایم مشینوں کے لاک خودکار (آٹو میٹک) ہونے چاہییں۔
گارڈز کی بھرتی صرف رجسٹرڈ سیکیورٹی کمپنیوں سے کی جائے اور ان کی مکمل جانچ پڑتال بھی لازم ہو۔ ترجیحاً گارڈز کا تعلق سابقہ فوج یا پولیس سے ہونا چاہیے۔
بینک میں ایک مخصوص ملازم کو یہ ذمہ داری سونپی جائے کہ وہ سیکیورٹی گارڈز کی کارکردگی پر نظر رکھے۔ تمام داخلی و خارجی دروازوں کو جدید سیکیورٹی سسٹمز سے منسلک کیا جائے اور مرکزی الارم (سنٹرل الارم) ہر وقت فعال حالت میں ہونا چاہیے۔
ایڈوائزری کے اختتام پر یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی صارف 5 لاکھ یا اس سے زائد رقم نکلواتا ہے تو بینک انتظامیہ قریبی پولیس کو مطلع کرے تاکہ شہری کو مکمل سیکیورٹی فراہم کی جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایڈوائزری ایس ایس پی ساؤتھ اے ٹی ایم سندھ پولیس سیکیورٹی کمپنیز سیکیورٹی گارڈز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایڈوائزری ایس ایس پی ساو تھ اے ٹی ایم سندھ پولیس سیکیورٹی کمپنیز سیکیورٹی گارڈز سیکیورٹی گارڈز ایس ایس پی ساو تھ یہ بھی کے لیے
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔