اسپیکر اور چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں میں اضافے پر وزیر اعظم کا نوٹس، کیا اضافہ برقرار رہے گا؟
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
حکومت نے بجٹ پیش کرنے سے صرف ایک دن قبل اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں میں 500 فیصد اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے دونوں عہدوں پر فائز شخصیات کی ماہانہ تنخواہ 2 لاکھ 5ہزار روپے سے بڑھا کر 13لاکھ مقرر کردی۔
تاہم اس فیصلے پر وزیراعظم شہباز شریف نے نوٹس لیتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ سے رپورٹ طلب کر لی ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف پہلے ہی بیان دیے چکے ہیں کہ اسپیکر اور چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں میں اضافہ مالی فحاشی کے زمرے میں آتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت قرض لے کر ریلیف دے رہی ہے، اخراجات میں کمی ناگزیر ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
دوسری جانب وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پریس کانفرنس میں صحافیوں کا سامنا کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں میں اضافہ اس لیے ضروری تھا کہ ان کی تنخواہوں میں 2016 سے اضافہ نہیں کیا گیا ہے، اگر یہ تنخواہ ہر سال بڑھتی رہتی تو یکدم زیادہ تنخواہ بڑھنے کی بات نہ ہوتی۔
وزیراعظم شہباز شریف کے اس معاملے پر نوٹس لینے اور وزیر دفاع سمیت دیگر حلقوں سے تنقید کے بعد ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ اضافہ یا تو واپس ہو جائے گا یا پھر اضافے کی شرح میں بڑی کمی کی جائے گی، چیئرمین سینیٹ کی مراعات میں اضافے کی کوشش 2 سال قبل بھی کی گئی تھی جب ایک بل منظور کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: تنخواہ دار طبقے کے لیے خوشخبری: وفاقی بجٹ 26-2025 میں انکم ٹیکس کی شرح کم کر دی گئی
دو سال قبل 19 جون کو سینیٹ سے چیئرمین سینیٹ کی مراعات میں اضافے کا بل منظور کیا تھا جس کے مطابق چیئرمین سینیٹ کی سرکاری رہائش گاہ کے فرنیچر کی مد میں خریداری کے اخراجات ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر 50 لاکھ روپے کر دیے گئے ہیں، اسی طرح بیرون ملک سفر کے دوران چیئرمین سینیٹ کو ڈپٹی ہیڈ آف اسٹیٹ یا نائب صدر کے مساوی پروٹوکول ملنے، چیئرمین سینیٹ کے لیے مختص اضافی الاؤنس 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کرنے اور چیئرمین کی صوابدیدی گرانٹ 6 لاکھ روپے سے بڑھا کر 18 لاکھ روپے کرنے کا بل منظور کیا گیا تھا۔
چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے پہلے تو ایوان بالا کے ارکان کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کے بل کا بھرپور دفاع کیا اور کہا کہ اس سے خزانے پر اضافی بوجھ نہیں پڑے گا، ساتھ ہی خود کو احتساب کے لیے بھی پیش کیا ہے اور مستعفی ہونے کی بھی پیشکش کی ہے تاہم حکومت کی شدید مخالفت کے باعث یکم جولائی 2023 کو انہوں نے چیئرمین سینیٹ کی مراعات کا بل واپس لینے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسپیکر اضافی الاؤنس چیئرمین سینیٹ خواجہ آصف شرح شہباز شریف صادق سنجرانی صوابدیدی گرانٹ قومی اسمبلی محمد اورنگزیب وزیر اعظم وزیر خزانہ وزیر دفاع.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپیکر اضافی الاو نس چیئرمین سینیٹ خواجہ ا صف شہباز شریف صوابدیدی گرانٹ قومی اسمبلی محمد اورنگزیب وزیر دفاع اور چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں میں روپے سے بڑھا کر قومی اسمبلی لاکھ روپے میں اضافے کے لیے
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
سٹی 42: کفایت شعاری اقدامات میں نائب وزیر اعظم نے مارکیٹوں کے اوقات کار بڑھا کر بڑا ریلیف دےدیا
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابقنائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے آج وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی
کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا ۔کمیٹی نے مارکیٹوں کے اوقاتِ کار، دن کے اوقات میں اضافے اور گرمیوں کے بلند درجۂ حرارت کو مدنظر رکھتے ہوئے کاروبار بند کرنے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ کیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
کمیٹی کے فیصلے کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ریستوران، کیفے اور کھانے پینے کے مراکز رات 11:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔
تاہم ٹیک اوے اور ڈیلیوری سروسز ان اوقات کار سے مستثنیٰ ہوں گی۔شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔ضروری خدمات بشمول فارمیسی، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات کو بھی مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر معاملات اور کیسز پر بھی غور کیا اور ان کی منظوری دی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات، اور آئی ٹی و ٹیلی کام شریک ہوئے۔اجلاس میں وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے خزانہ؛ نائب وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی بھی موجود تھے
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم، اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشنز؛ نیز صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔