فردوس شمیم نقوی نے مرزا آفریدی کو سینیٹ کا ٹکٹ دینے کی وجہ بتا دی
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فردوس شمیم نقوی نے مرزا آفریدی کو سینیٹ کا ٹکٹ دیئے جانے کی وجہ بتا دی۔
نجی ٹی وی چینل ڈان نیوز کے پروگرام ’’ان فوکس‘‘ کی میزبان نادیہ نقی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر سینیٹ ٹکٹوں پر فردوس شمیم نقوی سے گفتگو کا کلپ شیئر کیا ہے۔
میزبان کے سوال’’پی ٹی آئی میں ٹکٹ پھر ان لوگوں کو دیا گیا جن کیلئے کہا گیا تھا کہ ان کو جتوانا ہے‘‘کے جواب میں فردوس شمیم نقوی نے کہاکہ نہیں بتائیں کس نے کہا۔
تھائی لینڈ اور کمبوڈیا نے غیر مشروط جنگ بندی پر اتفاق کر لیا
ٹی وی میزبان نے کہاکہ میں آپ سے پوچھ رہی ہوں ،اس پر فردوس شمیم نقوی نے کہاکہ آپ پھر مجھے بولنے دیجیے۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ پہلی چیز مراد سعیدجوسینیٹ ٹکٹ کے مستحق تھے،نادیہ نقی نے کہاکہ ٹھیک ہے وہ تو آپ کی پارٹی میں ہیں، اس پر فردوس شمیم نقوی نے کہاکہ اعظم سواتی ، فیصل جاوید خان،روبینہ ناز،ایک آدمی (مرزا آفریدی)پر اعتراض ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہاکہ مرزاآفریدی ایک بااثر شخص ہے،وہ پارٹی کی مالی معاونت بھی کرتا رہا ہے،ہر پارٹی کو خاص طور پر اس دور میں بھی مالی اعانت کی ضرورت ہوتی ہے،جہاں ہم پارٹی ورکرز ،سیاستدانوں اور سپورٹرز کو ٹکٹ دیتے ہیں ،سینیٹ کے لیول پر ہمیں ان لوگوں کی خدمات کو بھی تسلیم کرنا ہوتا ہے،جو پارٹی کی گاہے بگاہے مدد کرتے آ رہے ہیں۔
آگ لگے بستی میں، ہم ہیں اپنی مستی میں
فردوس شمیم نقوی نے سینٹ کا ٹکٹ افریدی کو دیے جانے کی وجہ بتا دی کہا کہ وہ پارٹی کی مالی معاونت کرتے ہیں اور ایسے میں سینٹ کا ٹکٹ نہ صرف سیاست دانوں کو پارٹی کے سپورٹرز کو دیا جاتا ہے بلکہ ان کو بھی جو پارٹی کی گاہ بگاہے فنڈنگ کریں@Dawn_News @PTIofficial @Fsnaqvi… pic.
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: فردوس شمیم نقوی نے نے کہاکہ پارٹی کی نے کہا کا ٹکٹ
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔