والد کی شہادت کے بعد بہادر بیٹا بھی وطن پر قربان،محسن نقوی کی شہیدمیجر زیاد سلیم آمد
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
در نایاب: شہیدوں کا عظیم خاندان, والد کی شہادت کے 20 برس بعد بہادر بیٹا بھی وطن پر قربان, راولپنڈی میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نےبلوچستان میں شہید ہونے والے میجر زیاد سلیم کی رہائش گاہ پہنچ گئے۔
تفصیلات کےمطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے شہید میجر زیاد سلیم کی والدہ، بہن اور بھائیوں کے بلند حوصلے کو سراہا، محسن نقوی نے کہا آپ جیسی بہادر اور بلند حوصلہ مائیں قوم کا فخر ہیں۔
اے سی شالیمار اور پیرافورس پرمسلح لینڈمافیاکاحملہ ؛ پولیس نے دو ملزم گرفتار کرلیے
محسن نقوی نے شہید میجر زیاد سلیم کی والدہ کی عظمت، حوصلے اور ہمت کو سلام پیش کیا، کہا کہ شہداء کے خاندان کا قربانیوں کا قرض قوم نہیں اتار سکتی، بے مثال قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
View this post on InstagramA post shared by Muhammad Sajid Khan (@msajidk_42)
محسن نقوی نے کہا کہ آپ کے خاندان کا ہر طرح سے خیال رکھیں گے، شہید میجر زیاد سلیم کا آخری آڈیو پیغام بھائی نے وزیر داخلہ محسن نقوی کو سنایا۔
چیٹ جی پی ٹی سے احتیاط ؛ اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سام آلٹمین نے اہم مشورہ دے دیا
شہید میجر کی والدہ نے بتایا کہ شہادت سے کچھ عرصہ قبل ہی بیٹے کی شادی ہوئی، وطن سے عشق جنون کی حد تک تھا، زخمی ہونے کے باوجود زیاد ساتھیوں کو بچاتے رہے، زخموں کی بھی پروا نہیں کی، شوہر کے بعد اب بیٹا بھی وطن پر قربان ہو گیا۔
شہید کی والدہ نےپُرعزم الفاظ ادا کرتے ہوئے کہا وہ ہمیشہ وطن اور پاک افواج کے ساتھ کھڑی ہیں اور کھڑی رہیں گی۔
میجر زیاد سلیم کے والد بریگیڈئر سلیم بھی 2005 میں مادرِ وطن پر قربان ہو چکے ہیں، آئی جی اسلام آباد پولیس علی ناصر رضوی ، چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا بھی اس موقع پر موجود تھے۔
اربعین کیلئے زمینی راستے سے ایران اور عراق جانے پر پابندی عائد
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: میجر زیاد سلیم محسن نقوی نے شہید میجر کی والدہ
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔