وزیر داخلہ محسن نقوی کی وطن پر قربان میجر زیاد سلیم کے گھر آمد، اہل خانہ سے تعزیت
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
راولپنڈی:
وزیر داخلہ محسن نقوی نے بلوچستان میں دہشت گردوں سے مقابلے میں جامِ شہادت نوش کرنے والے میجر زیاد سلیم کی رہائش گاہ پر ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔
وزیر داخلہ نے شہید کی والدہ، بہن، بھائیوں اور دیگر اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے فاتحہ خوانی کی اور شہید کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
محسن نقوی نے شہید میجر زیاد سلیم کی والدہ کے حوصلے اور عظمت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ جیسی بہادر اور بلند حوصلہ مائیں قوم کا فخر ہیں۔ شہدا کے خاندانوں کی قربانیوں کا قرض قوم کبھی ادا نہیں کر سکتی۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم آپ کے خاندان کا ہر طرح سے خیال رکھیں گے۔
شہید میجر زیاد سلیم کی والدہ نے جذباتی انداز میں بتایا کہ اُن کے بیٹے کو وطن سے عشق جنون کی حد تک تھا۔ شہادت سے کچھ عرصہ قبل ہی اُس کی شادی ہوئی تھی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ زخمی ہونے کے باوجود زیاد سلیم اپنے ساتھیوں کو بچاتے رہے اور زخموں کی پروا بھی نہ کی۔
والدہ نے پُرعزم لہجے میں کہا کہ شوہر کے بعد اب بیٹا بھی وطن پر قربان ہو گیا، مگر میں ہمیشہ وطن اور پاک افواج کے ساتھ کھڑی رہی ہوں اور رہوں گی۔
واضح رہے کہ شہید میجر زیاد سلیم کے والد بریگیڈیئر سلیم بھی 2005 میں مادرِ وطن پر قربان ہو چکے ہیں، یوں یہ خاندان حقیقی معنوں میں شہدا کا عظیم وارث ہے۔ ملاقات کے دوران شہید کے بھائی نے وزیر داخلہ کو میجر زیاد سلیم کا آخری آڈیو پیغام بھی سنایا، جس نے فضا کو مزید سوگوار کر دیا۔
اس موقع پر آئی جی اسلام آباد پولیس علی ناصر رضوی اور چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا بھی موجود تھے، جنہوں نے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میجر زیاد سلیم وزیر داخلہ
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔