سابق بھارتی کپتان روی شاستری نے اسٹار بھارتی کرکٹر ویرات کوہلی کی ٹیسٹ ریٹائرمنٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے ہی بورڈ کو تنقید کا نشانہ بناڈالا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق کرکٹر و کمنٹیٹر روی شاستری نے بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کی جانب سے اسٹار بیٹر ویرات کوہلی کو الواعی ٹیسٹ میچ نہ دینے پر مایوسی کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ ویرات کوہلی کے اسطرح انٹرنیشنل ٹیسٹ کرکٹ کیرئیر چھوڑنے پر دکھ ہوا، جب آپ جاتے ہیں، تب لوگوں کو احساس ہوتا ہے کہ آپ کتنے بڑے کھلاڑی تھے، میرے خیال میں اس معاملے کو بہتر طریقے سے ہینڈل کیا جاسکتا تھا۔

مزید پڑھیں: کوہلی 10 سال قبل دورہ آسٹریلیا پر کِس گرل فرینڈ کو لیکر گئے تھے؟

روی شاستری نے کہا کہ اگر میں مینجمنٹ کا حصہ ہوتا تو وہ اس سال کے شروع میں آسٹریلیا کے خلاف بھارت کی 1-3 سے ٹیسٹ سیریز میں شکست کے بعد کوہلی کو دوبارہ کپتان بنادیتا۔

مزید پڑھیں: "میری ناکامی پر لوگوں نے آٹو رکشہ ڈرائیور کا بیٹا کہہ کر پُکارا"

روہت شرما اور ویرات کوہلی کی اچانک ریٹائرمنٹ کے اعلان کے بعد بھارتی بورڈ (بی سی سی آئی) نے شبمن گل کو کپتان نامزد کیا، جو دورہ انگلینڈ میں بھارتی ٹیم کی قیادت کے فرائض سرانجام دیں گے۔

مزید پڑھیں: کرکٹر سے ممبر پارلیمنٹ کی منگنی ہوگئی، ویڈیو وائرل

واضح رہے کہ ویرات کوہلی نے گزشتہ ماہ ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا، انہوں نے 123 میچزمیں 46.

85 کی اوسط سے 9,230 رنز کے ساتھ کیرئیر کا اختتام کیا، جس میں 30 سنچریاں بھی شامل تھیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ویرات کوہلی

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی
  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی