کوہلی کی ٹیسٹ ریٹائرمنٹ؛ شاستری نے اپنے ہی بورڈ کو تنقید کا نشانہ بناڈالا
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
سابق بھارتی کپتان روی شاستری نے اسٹار بھارتی کرکٹر ویرات کوہلی کی ٹیسٹ ریٹائرمنٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے ہی بورڈ کو تنقید کا نشانہ بناڈالا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق کرکٹر و کمنٹیٹر روی شاستری نے بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کی جانب سے اسٹار بیٹر ویرات کوہلی کو الواعی ٹیسٹ میچ نہ دینے پر مایوسی کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ویرات کوہلی کے اسطرح انٹرنیشنل ٹیسٹ کرکٹ کیرئیر چھوڑنے پر دکھ ہوا، جب آپ جاتے ہیں، تب لوگوں کو احساس ہوتا ہے کہ آپ کتنے بڑے کھلاڑی تھے، میرے خیال میں اس معاملے کو بہتر طریقے سے ہینڈل کیا جاسکتا تھا۔
مزید پڑھیں: کوہلی 10 سال قبل دورہ آسٹریلیا پر کِس گرل فرینڈ کو لیکر گئے تھے؟
روی شاستری نے کہا کہ اگر میں مینجمنٹ کا حصہ ہوتا تو وہ اس سال کے شروع میں آسٹریلیا کے خلاف بھارت کی 1-3 سے ٹیسٹ سیریز میں شکست کے بعد کوہلی کو دوبارہ کپتان بنادیتا۔
مزید پڑھیں: "میری ناکامی پر لوگوں نے آٹو رکشہ ڈرائیور کا بیٹا کہہ کر پُکارا"
روہت شرما اور ویرات کوہلی کی اچانک ریٹائرمنٹ کے اعلان کے بعد بھارتی بورڈ (بی سی سی آئی) نے شبمن گل کو کپتان نامزد کیا، جو دورہ انگلینڈ میں بھارتی ٹیم کی قیادت کے فرائض سرانجام دیں گے۔
مزید پڑھیں: کرکٹر سے ممبر پارلیمنٹ کی منگنی ہوگئی، ویڈیو وائرل
واضح رہے کہ ویرات کوہلی نے گزشتہ ماہ ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا، انہوں نے 123 میچزمیں 46.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ویرات کوہلی
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔