بھارتی طیارے کو گرنے میں ایک منٹ بھی نہیں لگا، سی این این کی چونکا دینے والی رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
احمد آباد: ایئر انڈیا کی لندن جانے والی پرواز AI-171 کے المناک حادثے سے متعلق امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی ابتدائی رپورٹ میں ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارہ ٹیک آف کے محض دوسرے منٹ میں ہی ایک درخت سے ٹکرا کر نیچے آ گرا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طیارے کے پائلٹس کو ہنگامی پیغام بھیجنے کا موقع بھی نہ مل سکا، کیونکہ جہاز انتہائی کم بلندی پر ہی قابو سے باہر ہو چکا تھا۔ طیارہ دوپہر 1 بج کر 38 منٹ پر سردار ولبھ بھائی پٹیل ایئرپورٹ، احمد آباد سے فضا میں بلند ہوا تھا۔
ایوی ایشن ٹریکر فلائٹ رادار 24 کے مطابق، ٹیک آف کے ایک منٹ بعد طیارہ جب تقریباً 625 فٹ کی بلندی پر تھا، تو اس کا رابطہ ایئر ٹریفک کنٹرول سے منقطع ہو گیا۔ کچھ ہی لمحوں بعد یہ رہائشی علاقے میگھانی نگر میں گر کر تباہ ہو گیا۔
ڈی جی سی اے کے مطابق، پرواز میں 238 مسافر اور 12 عملے کے ارکان سوار تھے۔ یہ پرواز گیٹوک ایئرپورٹ لندن کے لیے تھی، جہاں طیارے کو مقامی وقت کے مطابق شام 6:25 پر لینڈ کرنا تھا۔
بوئنگ کمپنی نے مختصر بیان میں کہا ہے کہ وہ صورتحال سے باخبر ہے اور تحقیقات میں مکمل تعاون کرے گی۔
برطانیہ، پرتگال، اور کینیڈا کی حکومتوں نے اپنے سفارتی عملے کو متحرک کر دیا ہے تاکہ متاثرہ شہریوں سے متعلق معلومات اکٹھی کی جا سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔
پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟
ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔
الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔
الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔
ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔
گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔