احمد آباد: ایئر انڈیا کی لندن جانے والی پرواز AI-171 کے المناک حادثے سے متعلق امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی ابتدائی رپورٹ میں ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں۔ 

رپورٹ کے مطابق، بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارہ ٹیک آف کے محض دوسرے منٹ میں ہی ایک درخت سے ٹکرا کر نیچے آ گرا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طیارے کے پائلٹس کو ہنگامی پیغام بھیجنے کا موقع بھی نہ مل سکا، کیونکہ جہاز انتہائی کم بلندی پر ہی قابو سے باہر ہو چکا تھا۔ طیارہ دوپہر 1 بج کر 38 منٹ پر سردار ولبھ بھائی پٹیل ایئرپورٹ، احمد آباد سے فضا میں بلند ہوا تھا۔

ایوی ایشن ٹریکر فلائٹ رادار 24 کے مطابق، ٹیک آف کے ایک منٹ بعد طیارہ جب تقریباً 625 فٹ کی بلندی پر تھا، تو اس کا رابطہ ایئر ٹریفک کنٹرول سے منقطع ہو گیا۔ کچھ ہی لمحوں بعد یہ رہائشی علاقے میگھانی نگر میں گر کر تباہ ہو گیا۔

ڈی جی سی اے کے مطابق، پرواز میں 238 مسافر اور 12 عملے کے ارکان سوار تھے۔ یہ پرواز گیٹوک ایئرپورٹ لندن کے لیے تھی، جہاں طیارے کو مقامی وقت کے مطابق شام 6:25 پر لینڈ کرنا تھا۔

بوئنگ کمپنی نے مختصر بیان میں کہا ہے کہ وہ صورتحال سے باخبر ہے اور تحقیقات میں مکمل تعاون کرے گی۔

برطانیہ، پرتگال، اور کینیڈا کی حکومتوں نے اپنے سفارتی عملے کو متحرک کر دیا ہے تاکہ متاثرہ شہریوں سے متعلق معلومات اکٹھی کی جا سکیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے مطابق

پڑھیں:

مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش

عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے  آیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے  فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔ 

انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں  زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔

بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے  مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین  تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر  رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق