بھارت:ریاست گجرات کے احمد آباد ایئرپورٹ کے قریب ایئر انڈیا کا مسافر طیارہ گر کر تباہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
نئی دہلی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔12 جون ۔2025 )بھارت کی ریاست گجرات میں احمد آباد ایئرپورٹ کے قریب برطانیہ کے شہر لندن کے لیے اڑان بھرنے والا ایئر انڈیا کا مسافر طیارہ گر کر تباہ ہوگیا، حادثے میں ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایئرانڈیا کی فلائٹ نمبر اے آئی 171 بھارتی ریاست گجرات کے احمد آباد ایئرپورٹ سے لندن کے لیے روانہ ہوئی تھی، انڈیا ٹوڈے کے مطابق طیارے کو حادثہ ٹیک آف کے دوران پیش آیا.
(جاری ہے)
طیارے میں 230 مسافر اور عملے کے 12 ارکان سوار تھے، طیارہ گرنے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ادارے اور فائر بریگیڈ کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے طیارے میں ایئرانڈیا کے کیپٹن سمیت سبھروال اور فرسٹ آفیسر کلائیو کنڈر کے ساتھ پرواز کر رہے تھے، کیپٹن سمیت سبھر وال لیفٹ سیٹ ٹریننگ کیپٹن (ایل ٹی سی) ہیں اور ان کے پاس 8 ہزار 200 گھنٹوں کی پرواز کا تجربہ ہے جبکہ ان کے کوپائلٹ کے پاس ایک ہزار 100 گھنٹوں کی پرواز کا تجربہ ہے ایئر ٹریفک کنٹرول (اے ٹی سی) کے مطابق طیارہ احمد آباد کے رن وے سے روانہ ہوا تھا اس نے ایئر ٹریفک کنٹرول کو ہنگامی حالت ”مے ڈے“ کی کال دی لیکن اس کے بعد اے ٹی سی کی طرف سے کی جانے والی کالز کا کوئی جواب نہیں دیا گیا. ڈی جی سی اے کے ذرائع کے مطابق روانگی کے فوراً بعد طیارہ ہوائی اڈے کی حدود سے باہر زمین پر گر گیا حادثے کی جگہ سے گھنا سیاہ دھواں اٹھتا دیکھا گیا پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایئرانڈیا کا طیارہ ایئرپورٹ کے قریب رہائشی آبادی کے قریب گرا ہے، ہلاکتوں کا خدشہ ہے، تاہم ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد ہی تفصیلات منظر عام پر آئیں گی. بھارتی جریدے”دی ہندو“ کے مطابق ایئر انڈیا کا ایک طیارہ جمعرات کے روز سردار ولبھ بھائی پٹیل احمد آباد ایئرپورٹ پر ٹیک آف کے دوران حادثے کا شکار ہو گیا گجرات اسٹیٹ پولیس کنٹرول روم نے اطلاع دی ہے کہ ایئر انڈیا کی پرواز AI 171 لندن کے لیے روانہ ہو رہی تھی حادثے کی جگہ پر دھواں اٹھتا ہوا دیکھا گیا اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں موقع پر پہنچ گئی ہیں. مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے گجرات کے وزیر اعلیٰ، وزیر داخلہ اور پولیس کمشنر سے اس حادثے کے بارے میں بات کی ہے انہوں نے مرکزی حکومت کی طرف سے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے پروازوں کی ٹریکنگ کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار کی جانب سے ” ایکس“پر ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم ایئر انڈیا کی پرواز AI171 کے احمد آباد سے لندن جاتے ہوئے حادثے کی اطلاعات کا جائزہ لے رہے ہیں ہمیں طیارے سے آخری سگنل 08:08:51 یو ٹی سی پر موصول ہوا تھا جو ٹیک آف کے چند سیکنڈ بعد کا تھا. حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ بوئنگ 787-8 ڈریم لائنر تھا جس کا رجسٹریشن نمبر VT-ANB ہے بھارت میں شہری ہوا بازی کے وزیر رام موہن نائیڈو نے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ احمد آباد میں پرواز کے حادثے کے بارے میں جان کر شدید صدمہ اور افسوس ہوا انہوں نے کہا کہ ہم پوری طرح الرٹ پر ہیں میں خود صورت حال کی نگرانی کر رہا ہوں تمام ہوا بازی اور ہنگامی ردعمل کی ایجنسیوں کو فوری اور مربوط کارروائی کی ہدایت دی ہے، ریسکیو ٹیموں کو روانہ کر دیا گیا ہے اور طبی امداد و ریلیف کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے تمام کوششیں کی جا رہی ہیں رام موہن نائیڈو نے کہا کہ میری دعائیں اور نیک تمنائیں تمام متاثرین اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ ہیں.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے احمد آباد ایئرپورٹ ایئر انڈیا کے مطابق کی پرواز انڈیا کا کے قریب کے لیے
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔