چین اور امریکہ کے مابین ایک دوسرے کے تجارتی خدشات کو دور کرنے میں نئی پیش رفت
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
چین اور امریکہ کے مابین ایک دوسرے کے تجارتی خدشات کو دور کرنے میں نئی پیش رفت WhatsAppFacebookTwitter 0 12 June, 2025 سب نیوز
بیجنگ :چینی وزارت تجارت کے ترجمان حہ یا دونگ نے ایک پریس کانفرنس میں چین امریکہ اقتصادی و تجارتی مشاورتی میکانزم کے اجلاس پربریفنگ دی ۔جمعرات کے روز انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس دونوں سربراہان مملکت کی اسٹریٹجک رہنمائی میں منعقد ہوا اور فریقین5 جون کو دونوں سربراہان مملکت کے درمیان ٹیلیفونک بات چیت میں طے پانے والے اہم اتفاق رائے پر عمل درآمد اور جنیوا اقتصادی و تجارتی مذاکرات کے نتائج کو مضبوط بنانے کے اقدامات کے فریم ورک پر اصولی اتفاق رائے پر پہنچے اور ایک دوسرے کے معاشی اور تجارتی خدشات کو دور کرنے میں نئی پیش رفت حاصل کی۔
ریئر ارتھ میٹلز کے مسئلے کے حوالے سے چینی ترجمان کا کہنا تھا کہ ایک ذمہ دار بڑے ملک کی حیثیت سے ، چین نے سول شعبے میں مختلف ممالک کی معقول ضروریات اور خدشات کا مکمل خیال رکھا ہے ، قانون کے مطابق اس سے متعلق اشیاء کے لئے برآمدی لائسنس کی درخواستوں کا جائزہ لیا ہے اور اہل درخواستوں کی ایک مخصوص تعداد کی منظوری دی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ چین اہل درخواستوں کی جانچ اور منظوری کو مضبوط بنانا جاری رکھے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسائنس اور ٹیکنالوجی میں خود انحصاری چین کی ترقی کا ایک طاقتور انجن ہے، چینی میڈیا کینیڈا کے شہر برنابی نے چینی نژاد افراد کے خلاف تاریخی امتیازی سلوک پر سرکاری معافی کا اعلان کر دیا ریکارڈ پر ریکارڈ قائم! سٹاک مارکیٹ ایک لاکھ 26 ہزار پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر چین امریکہ اقتصادی تعلقات کا جوہر باہمی فائدے اور مشترکہ کامیابی ہیں، چینی نائب وزیر اعظم چین افریقہ میں سفارتی تعلقات رکھنے والے 53 ممالک کی مصنوعات پر صفر ٹیرف نافذ کرے گا، چینی وزارت خارجہ چین-امریکہ اقتصادی اور تجارتی مشاورت اصولی طور پر ایک فریم ورک پر پہنچ گئی افریقی ترقی یافتہ ممالک کی چین کے ساتھ برآمدات کے لیے مزید سہولیات فراہم کی جا ئیں گی، چینی صدرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔