تھانہ کوہسار پولیس کی بڑی کارروائی: تجارتی مراکز میں چوریوں میں ملوث ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
تھانہ کوہسار پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے تجارتی مراکز میں چوری کی وارداتوں میں ملوث منظم گروہ کے اہم رکن کو گرفتار کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں:ڈاکوؤں کی فائرنگ سے اسلام آباد پولیس کا آفیسر شہید، سپاہی زخمی
ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت کامران مسیح کے نام سے ہوئی ہے، جس کے قبضے سے مسروقہ نقدی بھی برآمد کر لی گئی ہے۔
ملزم کے خلاف تھانہ کوہسار میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور پولیس کی جانب سے تفتیش جاری ہے۔ ڈی آئی جی اسلام آباد محمد جواد طارق کا کہنا ہے کہ ملزم کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں منظم اور متحرک جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں جاری ہیں تاکہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام آباد پولیس تھانہ کوہسا ڈی آئی جی اسلام آباد کامران مسیح.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد پولیس تھانہ کوہسا ڈی آئی جی اسلام آباد کامران مسیح اسلام آباد
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔