پولیس کو یو ٹیوبر رجب بٹ کو گرفتار کرنے سے روک دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
لاہور (نیوز ڈیسک) عدالت نے پولیس کو یوٹیوبر رجب بٹ کو گرفتار کرنے سے روک دیا اور انھیں شامل تفتیش ہونے کی ہدایت کردی۔
تفصیلات کے مطابق سیشن کورٹ میں یوٹیوبر رجب بٹ کی عبوری ضمانت پر سماعت ہوئی، یو ٹیوبر عدالت کے روبرو پیش ہوکر حاضری مکمل کروائی۔
عدالت نے پولیس کو 21 جون تک رجب بٹ کی گرفتاری سے روک دیا اور یوٹیوبر کو شامل تفتیش ہونے کی ہدایت کردی۔
یو ٹیوبر کیخلاف تھانہ نشتر کالونی پولیس نے مقدمہ درج کررکھا ہے ، ان کیخلاف پیکا قوانین اور 295 سی کے تحت مقدمہ درج ہے۔
ایف آئی آر میں جذبات مجروح کرنے کی دفعات شامل ہیں جبکہ نیا پرفیوم متعارف کرانے کا بھی ذکر کیا گیا۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی یوٹیوبر اپنے متنازع بیانات اور سوشل میڈیا مواد کی وجہ سے خبروں کا حصہ رہے ہیں اور ان کے خلاف متعدد مقدمات بھی درج کیے جاچکے ہیں۔
گزشتہ سال دسمبر میں لاہور پولیس نے لائسنس کے بغیر شیر کا بچہ اور اسلحہ رکھنے پر یو ٹیوبر کو گرفتار کیا تھا جسے بعد ازاں ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔
محکمہ وائلڈ لائف کے ہمراہ پولیس نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا تھا، ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ یو ٹیوبر سے غیر قانونی کلاشنکوف بھی برآمد ہوئی تھی۔
مزید پڑھیں : حکومت کا 15 ہزار 352 دیہات کو بجلی فراہم کرنے کا ہدف مقرر
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: یو ٹیوبر
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔