بھارتی نجومی نے طیارہ حادثے کی پیشگوئی ایک ہفتہ قبل کردی تھی
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">نئی دہلی: بھارت کی ایک خاتون نجومی نے ایک ہفتہ قبل ہی طیارہ حادثہ کی پیش گوئی کی تھی جو کہ حیرت انگیز طور پر پوری ہوگئی۔
احمد آباد میں ہونے والے ائر انڈیا کے بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارے کے افسوسناک حادثے کی پیشن ایک ہفتے قبل ہی کردی گئی تھی۔ خاتون نجومی “آسٹو شرمستھا” کی سوشل میڈیا پر 5 جون کی وڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں انہوں نے طیارہ حادثہ کی پیش گوئی کی تھی۔
وائرل وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خاتون نجومی نے زور دیکر خبردار کیا کہ میں اب بھی 2025 میں ایک بڑے فضائی حادثے کی اپنی پیش گوئی پر قائم ہوں۔
خاتون نجومی نے گزشتہ سال بھی کہا تھا کہ طیارہ حادثے کی خبر سب کو ہلا کر رکھ دے گی۔
ان وڈیوز پر سوشل میڈیا صارفین نے خاتون نجومی کی صلاحیتوں اور مہارت کی تعریف کرتے ہوئے ان کی پیشن گوئی درست ثابت ہونے پر حیرانگی کا اظہار کیا۔
ایک سوشل میڈیا صارف نے خاتون نجومی سے پوچھا کہ آخر آپ اتنی درست پیشن گوئی کیسے کرلیتی ہیں۔ یہ حیران کن ہے۔
ایک اور صارف نے لکھا کہ آپ کی پیش گوئیاں ہمیشہ اتنی درست کیسے ہوتی ہیں؟ آپ کے پاس بہت ہی کوئی خاص طاقت ہے۔
خیال رہے کہ آج ایئر انڈیا کی لندن جانے والی پرواز احمد آباد سے ٹیک آف کے چند منٹ بعد گر کر تباہ ہو گئی جس میں 242 افراد سوار تھے اور صرف ایک مسافر زندہ بچ سکا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خاتون نجومی حادثے کی پیش گوئی کی پیش
پڑھیں:
واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک کاغذ سازی کے کارخانے میں کیمیائی ٹینک پھٹنے کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق تمام لاپتا افراد کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئی ہیں، جبکہ حادثے کی وجوہات اور ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک صنعتی تنصیب پر کیمیائی ٹینک پھٹنے کے المناک حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام نے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ لاپتا قرار دیے گئے تمام نو افراد کی لاشیں ملبے سے برآمد کر لی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق ابتدائی طور پر حادثے کے فوراً بعد دو ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ دیگر افراد لاپتا ہو گئے تھے۔ امدادی اور بحالی کی ٹیموں نے پورے ہفتے متاثرہ مقام پر سرچ آپریشن جاری رکھا، جس کے دوران عمارت کے اندر ملبے کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ ڈرونز کی مدد سے علاقے کا فضائی جائزہ بھی لیا گیا۔
کاؤلٹز 2 فائر اینڈ ریسکیو کے ڈپٹی چیف کرٹ اسٹیچ نے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے انتہائی دشوار حالات میں ملبے کے نیچے پھنسے افراد کی تلاش جاری رکھی اور بالآخر تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد کر لی گئیں۔
حادثہ منگل کے روز لانگ ویو شہر میں واقع نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ (Nippon Dynawave Packaging) کے کارخانے میں پیش آیا، جہاں ’وائٹ لِکر‘ نامی کیمیائی محلول سے بھرا ایک بڑا ٹینک اندرونی دباؤ کے باعث پھٹ گیا تھا۔ یہ محلول سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ اور سوڈیم سلفائیڈ پر مشتمل ہوتا ہے اور کاغذ کے گودے (Paper Pulp) کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق متاثرہ ٹینک میں تقریباً 9 لاکھ گیلن (34 لاکھ لیٹر) کیمیائی محلول موجود تھا۔ بعد ازاں کیے گئے ٹیسٹوں سے یہ بات سامنے آئی کہ کچھ مقدار قریبی دریائے کولمبیا تک پہنچ گئی تھی، تاہم اب تک فضائی معیار یا لانگ ویو شہر کے پینے کے پانی پر کسی منفی اثرات کی نشاندہی نہیں ہوئی۔
نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ جاپان کی دوسری بڑی کاغذ ساز کمپنی Nippon Paper Industries کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے۔ جاپانی کمپنی نے 2016 میں سیئٹل کی لکڑی اور جنگلاتی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی Weyerhaeuser سے لانگ ویو کا یہ پلانٹ 225 ملین ڈالر میں خریدا تھا۔
حکام نے کہا ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ ٹینک کے اندر دھماکے یا انہدام کی اصل وجہ کیا تھی۔ ساتھ ہی ماحولیاتی ماہرین بھی قریبی علاقوں میں ممکنہ آلودگی کے اثرات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں