Express News:
2026-07-24@03:58:04 GMT

یونانی ادب ،سوفوکلیز ایڈیپس ریکس

اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT

تھیبزThebesکے بادشاہLaius کو اپالو دیوتا کا اوریکل( ہاتف غیبی) بتاتا ہے کہ اس کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوگا جو بڑا ہوکر اسے قتل کر دے گا اور اپنی ماں سے شادی کرے گا۔بادشاہ بہت پریشان ہوتا ہے اور جب اس کے اور اس کی ملکہ جوکوسٹاJokastaکے ہاں بیٹا پیدا ہوتا ہے تو بادشاہLaiusحکم دیتا ہے کہ اسے محل سے دور لے جا کر مار دیا جائے۔

ملکہ جوکاسٹا بچے کو ایک گڈریے کے حوالے کرتی ہے کہ وہ بچے کو دور ویران پہاڑ پر چھوڑ آئے جہاں وہ بھوک اور پیاس سے خود ہی مر جائے۔گڈریے کو راستے میں بچے پر ترس آ جاتا ہے اور وہ بچے کو مرنے کے لیے چھوڑنے کے بجائے ایک اور گڈریے کے حوالے کر دیتا ہے۔

دوسرا گڈریا بچے کو سلطنتَ کورنتھ کے بادشاہ کے ایک مصاحب کے حوالے کر دیتا ہے جو بچے کو کورنتھ Corinthکے بادشاہ پولی بسPo lybusاور اس کی ملکہ کے پاس لے جاتا ہے۔کورنتھ کے بادشاہ کی کوئی اولاد نہیں ہوتی اس لیے وہ بچے کو گود لے لیتے ہیں اور اس کی ایک شہزادے کی طرح پرورش کرتے ہیں۔ بچے کا نام ایڈی پسOedipusرکھا جاتا ہے۔پولی بس اور اس کی ملکہ ایڈی پس پر کبھی بھی یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ ان کا اصلی بیٹا نہیں ۔ایڈی پس بادزاہ پولی بس کو اپنا باپ اور اس کی ملکہ کو اپنی ماں سمجھتا ہے۔

ایڈی پس جوان ہو کر ایک دن اوریکل کے پاس جاتا ہے کہ اپنی آیندہ زندگی کے بارے میں کچھ معلوم کر سکے۔اوریکل پیشین گوئی کرتا ہے کہ وہ اپنے باپ کو قتل کرے گا اور اپنی والدہ سے شادی کرے گا۔یہ پیشین گوئی ایڈیپس کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔چونکہ وہ کورنتھ کے بادشاہ اور ملکہ کو اپنا والد اور والدہ جانتا ہے اس لیے فیصلہ کرتا ہے کہ وہ اب کبھی کورنتھ واپس نہیں جائے گا۔

کورنتھ سے بچنے کے لیے ایڈی پس قریبی سلطنت تھیبز  Thebes کا رخ کرتا ہے۔ تھیبز جاتے ہوئے راستے میں ایک تنگ موڑ پر ایک قیمتی بگھی اس کی سواری کا راستہ روک لیتی ہے۔دونوں میں راستہ دینے کے لیے تکرار اور گرما گرمی ہوتی ہے۔ایڈی پس بگھی سوار کو قتل کر دیتا ہے۔در اصل تھیبز کا بادشاہ اور ایڈی پس کا اصلی باپ لوئیس ڈلفی میں اوریکل کے پاس جا رہا ہوتا ہے جسے ایڈی پس ان جانے میں قتل کر دیتا ہے اور ان جانے میں ہی پیشین گوئی کا پہلا حصہ سچ ہو کر پورا ہو جاتا ہے۔

بادشاہ کو راستے میں ان جانے میں قتل کرنے کے بعد ایڈی پس تھیبز پہنچتا ہے تو شہر کو ایک خوف ناک غیر انسانی مخلوق Sphinxسفنکس کے نرغے میں پاتا ہے۔سفنکس شہر میں ہر داخل ہونے والے سے ایک پہیلی پوچھتی ہے اور صحیح جواب نہ ملنے پر اسے ہڑپ کر لیتی ہے۔ایڈی پس پہیلی کا صحیح جواب دے کر سفنکس کو ختم کر دیتا ہے اور فاتح کی طرح شہر میں داخل ہوتا ہے۔ایڈی پس کے سر پر تاج سجا دیا جاتا ہے اور ساتھ ہی روایت کے مطابق بیوہ ملکہ اس کی ملکیت میں دے دی جاتی ہے۔اس شادی کے بعد اوریکل کی پیشین گوئی مکمل طور پر پوری ہو جاتی ہے۔

ملکہ جو کاسٹا جو اصل میں ایڈی پس کی ماں ہوتی ہے اس کے بطن سے ایڈی پس کی اولاد ہوتی ہے لیکن کچھ عرصے کے بعد تھیبز ایک خوف ناک طاعون کی وبا کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔  لوگ دھڑا دھڑ مرنے لگتے ہیں۔شہر کے لوگ اکٹھے ہو کر بادشاہ کے محل کے باہر جمع ہوتے ہیں۔ بادشاہ ان کی فریاد سنتا ہے۔لوگ بادشاہ سے مدد کے طلب گار ہوتے ہیں۔ بادشاہ ایڈی پس اپنے ماموں اور برادر ان لاء اورین کو اوریکل کے پاس بھیجتا ہے کہ پلیگ سے نجات کا راستہ بتایا جائے۔اوریکل بتاتا ہے کہ ایک گھناؤنا فعل سرزد ہوا ہے۔بادشاہ لوئیس کے قاتل کا سراغ لگا کر اسے قرار واقعی سزا دینے سے پلیگ سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔

بادشاہ ایڈی پس کھوج لگانا شروع کرتا ہے بظاہر تو وہ ظالم کو تلاش کر رہا ہوتا ہے لیکن دراصل یہ خود آگہی کا سفر بنتا ہے۔ اس کو کئی مواقع پر کھوج لگانے سے منع کیا جاتا ہے۔ملکہ جوکاسٹا بھی اسے باز رہنے کا مشورہ دیتی ہے لیکن وہ کھوج میں لگا رہتا ہے اور آخرکار اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ اس گھناؤنے فعل کا ارتکاب خود اس نے کیا ہے۔

اس نے ہی بادشاہ یعنی اپنے باپ کو قتل کیا ہے۔اسی نے اپنی والدہ سے شادی کر کے گھناؤنا فعل کیا ہے۔ملکہ جوکاسٹا چیختے چلاتے بال نوچتے اپنے ہاتھوں خود کشی کر لیتی ہے۔بادشاہ ایڈی پس ان جانے میں کیے گئے جرم کا خمیازہ بھگتنے کے لیے پہلے اپنے آپ کو اندھا کر لیتا ہے۔اپنے ماموں Creonکو regentمقرر کر کے اسے کہتا ہے کہ اسے اسی پہاڑ پر مرنے کے لیے چھوڑ آیا جائے جہاں بچپنے میں اس کے والدین اسے مرنے کے لیے پھینک دینا چاہتے تھے۔وہ ان لمحات میں اپنی اولاد کے بارے میں فکر مند دکھائی دیتا ہے۔Creonاوریکل کے کہنے پر ایڈی پس کو تھیبز سے جلاوطن کر دیتا ہے۔

 سوفوکلیز کا اوپر بیان کردہ ڈرامہ ایڈی پس ریکس ہر حوالے سے ایک مکمل ٹریجیڈی ہے۔اس کا پلاٹ بہت جڑا ہوا اور اچھی طرح گوندھا ہوا ہے۔اس میں کہیں جھول نہیں۔اس کے کردار اور مکالمے بہت جاندار ہیں۔مشہور سائیکالوجسٹ فرائڈ نے سوفوکلیز کے اس ڈرامے کو دیکھ کر ایڈی پس کمپلیکس یا مدر کمپلیکس کو متعارف کروایا۔

مدر کمپلیکس کی تفصیل بیان کرنے کے لیے یہاں جگہ نہیں۔انسانی تہذیب کے سفر میں بہت سے موڑ ایسے ہیں جن کا رومان دیر تک آپ کے قدم روک رکھتا ہے حتیٰ کہ وہاں سے ہٹنے کو جی نہیں چاہتا۔وہ جو شاعر نے کہا ہے؎ دل پھر طوافِ کوئے ملامت کو جائے ہے۔ پندار کا صنم کدہ ویراںکیے ہوئے۔صعوبتیں،اذیتیں،کلفتیں،اداسیاں اور آہ و زاریاں المیے کو جنم دیتی ہیں۔یونانی المیہ نگار قاری کو اسیر بنانے کا فن خوب جانتے تھے اور بظاہر یوں لگتا ہے کہ زماں و مکاں بدلنے سے انسان کی بنیادی کیفیات میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔

یونانی ادب میں تین ڈرامہ نگاروں اسکائی لیس،یوری پیڈیس اور سوفوکلیز نے بہت کامیابی سمیٹی اور بہت شہرت کمائی۔سوفوکلیز ایک عظیم المیہ نگار تھا جو 496قبل مسیح میں پیدا ہوا۔اس کے باپ کا تلواریں ڈھالنے کا کام تھا جس سے اچھی خاصی آمدنی ہو جاتی تھی۔سوفوکلیز جوانِ رعنا بنا۔اس کا ذہن بھی رسا تھا۔

اس نے موسیقی اور رقص کے علاوہ دوسرے علوم و فنون میں بھی دسترس حاصل کی۔اپنے وقت کی سرکردہ شخصیات سے سوفوکلیز کی اکثر ملاقاتیں رہتی تھیں۔چند ایک سے اس کے ذاتی مراسم تھے جن میں پیری کلیز اور ہیری ڈوٹس بھی شامل تھے۔ول ڈیورانٹ نے سوفوکلیز کی بہت تعریف کی ہے۔سوفوکلیز نے بہت سے ڈرامے لکھے جن کی صحیح تعداد کا علم نہیں لیکن ول ڈیورانٹ نے تعداد 113بتائی ہے۔ہم تک اس کے کل 7ڈرامے Ajax,Electra,,Oedipus Rex,Antigine,Tradian Women,Philoctetes,اورOedipus at Colonusپہنچے ہیں۔ایڈی پس ریکس نے سوفوکلیز کو ادب میں امر کر دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اور اس کی ملکہ پیشین گوئی کر دیتا ہے کے بادشاہ اوریکل کے ہے کہ اس کرتا ہے ملکہ جو جاتا ہے ہوتا ہے قتل کر ہے اور کے پاس بچے کو

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف