Juraat:
2026-06-03@00:02:49 GMT

ڈرائنگ رومز اور واٹس ایپ جرنیلوں کے نام

اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT

ڈرائنگ رومز اور واٹس ایپ جرنیلوں کے نام

افتخار گیلانی

مئی کے مہینے میں، جب ہندوستان اور پاکستان کے درمیان حالات اس قدر کشیدہ ہو گئے کہ جنگ کی گھنٹیاں بجنے لگیں، سرحدوں پر فوجیں صف آرا تھیں اور میزائل سرحد پار کر رہے تھے ، تو اصل لڑائی شہروں، محلوں، چائے خانوں اور ڈرائنگ رومز میں لڑی جا رہی تھی۔ نہ وردی کی ضرورت تھی، نہ تربیت کی۔ ہر شخص وہاٹس ایپ پر جرنیل بنا بیٹھا تھا۔ ہر دوسرا فرد اسٹریٹجک تجزیہ کار بن کر عسکری مشورے دے رہا تھا۔ جیسے کرکٹ میچ کے دوران ہر شائق ماہر کوچ بن جاتا ہے ، ویسے ہی مئی کی اس کشیدگی کے دوران ہر فرد اپنی رائے دے رہا تھاکب، کہاں، اور کیسے حملہ ہونا چاہیے ۔
دہلی کی ہماری رہائشی سوسائٹی گروپ میں ایک آنٹی نے بیلسٹک میزائل ٹکنالوجی پر ایک لمبی پوسٹ شیئر کی ۔ دعویٰ کیا گیا کہ یہ معلومات انہیں اپنے کزن سے ملی، جو فضائیہ میں کام کرتا تھا۔بعد ازاں پتہ چلا کہ وہ کزن دراصل تنخواہوں والے اکاؤنٹس سیکشن میں تھا، اور اس کا میزائلوں سے اتنا ہی تعلق تھا جتنا ایک اکاؤنٹنٹ کا میزائل لانچر سے ہو سکتا ہے ۔اسی گروپ میں ایک انکل جو جنگی مشورہ دے رہے تھے سے پوچھا گیا کہ ان کی عسکری قابلیت کیا ہے ؟، تو انہوں نے اعلان کیا ؛’میں نے ‘بارڈر’ اور ‘اوڑی’ فلمیں دس بار دیکھی ہیں، مجھے جنگ کی باریکیاں بخوبی معلوم ہیں ‘ اعتراضات کرنے والوں پر انہوں نے ملک دشمنی کا الزام لگا کر چپ کروادیا۔
دہلی کے ایک پوش علاقے کے واٹس ایپ گروپوں میں گویا جنگ چھڑ گئی تھی ،جب پاکستان پر ہندوستان نے میزائلوں سے حملے کیے ،ٹی وی پر جب وہ جگہیں دکھائی جا رہی تھیں۔ ایک آنٹی نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا،’ارے بھئی، عمارت تو جوں کی توں کھڑی ہے ! مرنے والے بھی وردی میں نہیں تھے ۔’ان کی سب سے بڑی شکایت یہ تھی کہ میزائل نے عمارت پر عمودی حملہ نہیں کیا تھا، بلکہ قوس کی شکل میں گرا۔’یہ کیا طریقہ ہوا؟ میزائل تو اوپر سے سیدھا مارنا چاہیے تھا!’ انہوں نے لکھا تھا۔ابھی دفاعی ترجمان کی پریس کانفرنس مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ سوشل میڈیا پر دفاعی حکمت عملی طے ہونے لگی تھی۔ ایک پان والے نے پوسٹ کیا تھا،’بھائی صاحب، وہ ہدف درست نہیں تھا۔ ہمیں ان کا تیل کا ذخیرہ ملتان میں اڑا دینا چاہیے تھا!’ایک خاتون نے ٹوئٹر پر مشورہ دیا کہ انڈین ایئر فورس کو ملتان میں تھوکر نیاز بیگ کو نشانہ بنانا چاہیے ، کیونکہ وہاں مبینہ طور پر ہندوستان مخالف عناصر موجود ہیں۔ بعد میں جب کسی نے ان کی تصحیح کی کہ تھوکر نیاز بیگ تو لاہور میں ہے ، تو انہوں نے خاموشی سے پوسٹ ڈیلیٹ کر دیاور اگلے دن اسٹریٹجک خاموشی اختیار کر لی۔
ہندوستانی نیوز چینلوں پر ایسا ماحول بن گیا تھا گویا گلیڈیئیٹرز کا میدان ہو۔ ایک خود ساختہ جنرل صاحب میز پر بیٹھے فرما رہے تھے ؛’اگر میرے مشورے پر حملہ ہوتا، تو آج دشمن ہتھیار ڈال چکا ہوتا۔’ایک شادی کی تقریب میں، دولہا ابھی ہال میں داخل بھی نہیں ہوا تھا کہ ایک ماموں صاحب نے گھونٹ بھرتے ہوئے کہا؛’یہ جو حملہ ہوا ہے نا، یہ الیکشن اسٹنٹ ہے ۔ اصل حملہ تب ہوتا جب ہم ان کا ریڈار سسٹم تباہ کرتے ۔’دلہن کی خالہ نے کان میں سرگوشی کی؛’ارے چھوڑو حملہ، یہ بتاؤ، لڑکا کس رجمنٹ میں ہے ؟’
جنوبی دہلی کے لاجپت نگر علاقے کے شرما جی، جو دن بھر لائف انشورنس کی پالیسیاں بیچتے ہیں، شام کو عسکری ماہر بن جاتے ہیں۔ وہ بھارتی فوج کو جیسلمیر کے قریب تعیناتی کی اسٹریٹجی سمجھا رہے تھے ؛’اگر میں جنرل ہوتا، تو میں برہموس میزائل شمال مشرق سے چلاتا، مغرب سے نہیں۔ پھر دیکھتے وہ کیا کرتے !’پھر فرمایا؛’ہائپرسانک میزائل استعمال کرنے چاہیے ، جیسا روس نے کیا۔ سب سے پہلے پاکستان کے ڈرون ہیک کرو۔ میرے بیٹے کو ہیکنگ آتی ہے ۔ ایرفورس کو اس کی خدمات لینی چاہیے !’جب حقیقی جرنیل خطرات کا حساب لگا رہے تھے ، تب وہاٹس ایپ کے سِم کارڈ جرنیل مشورے دے رہے تھے ؛
‘بھائی، کراچی پر ایٹم بم پھینکو اور کھیل ختم کرو!’
ایک بابو نے مشورہ دیا؛
‘ریورس میزائل استعمال کرو، اگر انٹرسیپٹ ہو جائے تو واپس آ جائے گا!’
ایک خاتون نے صبح جھاڑو دیتے ہوئے دوسری سے کہا؛’بی بی، رات کے حملے کی آواز سنی؟’
جواب آیا؛’وہ میزائل نہیں تھا، میرا شوہر خراٹے مار رہا تھا!’
مگر سچ یہ ہے کہ سرحدوں پر جب گولیاں چلتی ہیں، جب لاشیں گرتی ہیں، تب صرف سپاہی نہیں، انسانیت بھی مرتی ہے ۔
مجھے یاد ہے کہ 2016 میں سرجیکل اسٹرائک کے بعد ایک معروف چینل کے ایڈیٹر جو خود کو اسٹریٹجک امور کے ماہر سمجھتے ہیں، کیونکہ ماضی میں پتہ نہیں کیوں پاکستان نے ان کو قبائلی علاقوں میں ڈاکو مینٹری بنانے کی اجازت دی، نے سرینگر کے ڈل گیٹ علاقے میں لائن آف کنٹرول کھینچ کر ایک کرنل کے ساتھ ایک گھنٹے کا لائیو شو کیا۔وہ کرنل سے پوچھ رہے تھے کہ مظفر آباد تک پہنچنے میں فوج کو کتنا وقت لگے گا۔ ان کا جواب تھا کہ بس سترہ گھنٹوں میں قبضہ ہو جائے گا اگر راستہ میں ٹریفک جام نہ ہوا۔ایسے ماحول میں، جہاں جوش کو حب الوطنی سمجھا جائے ، وہاں اگر کوئی تجزیہ کار احتیاط کا مشورہ دے ، تو اسے دشمن کا ایجنٹ سمجھا گیا۔ سفارت کار اگر جنگ سے بچنے کی بات کریں تو انہیں بزدل، اور صحافی سوال کریں تو غدار قرار دیا گیا۔
کیا ہم جانتے ہیں کہ آسٹریا کے آرچ ڈیوک فرڈیننڈ کے ایک قتل نے پہلی جنگ عظیم چھیڑ دی تھی؟کیا ہم بھول گئے کہ نازی جرمنی کے فالس فلیگ حملے سے دوسری جنگِ عظیم شروع ہوئی تھی، جس میں کروڑوں افراد مارے گئے ؟اور کیا ہم یاد رکھتے ہیں کہ جب واجپائی کو مشورہ دیا گیا کہ نیپال سے دہلی آنے والے اغوا شدہ طیارے کو لاہور میں تباہ کر دیں، تو انہوں نے انکار کیا؟ انہوں نے تین سو جانوں کو بچانے کو ترجیح دی، محض سفارتی پروپیگنڈے کی خاطرانہوں نے جانیں قربان کرنے سے انکار کردیا تھا۔شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے ڈرائنگ رومز کو جنگی ہیڈکوارٹر کے بجائے امن کے مراکز میں بدلیں۔ جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں، ذہنوں سے بھی لڑی جاتی ہے ۔ اگر ہم صرف نفرت، افواہوں اور پوائنٹ اسکورنگ میں الجھے رہے ، تو وہ دن دور نہیں جب ہمارے بچے فلمی اور اصلی جنگ کا فرق بھول جائیں گے ۔تب ہمیں احساس ہوگا کہ میزائل صرف پاکستان پر ہی نہیں، ہمارے شعور پر بھی گرے تھے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: انہوں نے رہے تھے

پڑھیں:

والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے

سوشل میڈیا کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ’میٹا‘ نے دنیا بھر میں انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر استعمال کرنے والے کم عمر صارفین کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سخت ترین پابندیوں کا باقاعدہ اطلاق کر دیا ہے۔ ان نئی پالیسیوں کا مقصد نوجوانوں کو نامناسب مواد اور آن لائن ہراسانی سے بچانا ہے۔

دنیا بھر میں نئی سیٹنگز کا فوری اطلاق

کمپنی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر پر 13 سال سے زیادہ عمر کے ’ٹین ایج‘ اکاؤنٹس پر مواد کے حوالے سے نئی اور زیادہ سخت سیٹنگز لاگو کر دی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:میٹا نے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کے بامعاوضہ فیچرز متعارف کرا دیے

واضح رہے کہ ان سخت ترین سیکیورٹی فیچرز کو سب سے پہلے اکتوبر 2026 میں امریکا، آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا میں آزمائشی طور پر متعارف کرایا گیا تھا تاہم اب 2 جون سے اس کا دائرہ کار دنیا بھر کے تمام ممالک تک پھیلا دیا گیا ہے۔

نامناسب مواد اور سرچ رزلٹس پر مکمل بلاکنگ

نئی تبدیلیوں کے تحت اب کم عمر صارفین ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا مواد نہیں دیکھ سکیں گے اور نہ ہی انہیں فالو کر سکیں گے جو اکثر اور بیشتر غیر اخلاقی یا نامناسب مواد شیئر کرتے ہیں۔

میٹا کا کہنا ہے کہ ایسے تمام مشکوک اور غیر موزوں اکاؤنٹس کو 18 سال سے کم عمر صارفین کی تجاویز(ریکومینڈیشنز) اور تلاش کے نتائج (سرچ رزلٹس) میں مکمل طور پر بلاک کر دیا جائے گا تاکہ بچے ان تک پہنچ ہی نہ سکیں۔

الائس کمپنی کے ساتھ اشتراک اور سرچ پر پابندی

’میٹا‘  نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی مشہور عالمی تنظیم ’سیفٹی کمپنی الائس‘ کے ساتھ مل کر مستقبل میں بھی کم عمر صارفین سے متعلق نئے فیچرز کو تیار اور ٹیسٹ کرے گی۔

یاد رہے کہ اکتوبر میں جب انسٹاگرام پر اس سیٹنگ کا آغاز ہوا تھا، تو یہ واضح کیا گیا تھا کہ کم عمر صارفین کو مخصوص سرچ اصطلاحات، جیسے نشہ آور اشیا کے استعمال اور دیگر نقصان دہ موضوعات کو سرچ کرنے سے بھی سختی سے روک دیا جائے گا۔

’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ اور والدین کا کنٹرول

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کو محفوظ ماحول دینے کے لیے ’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ کا فیچر بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا

اس فیچر کے تحت اب والدین کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کو پلیٹ فارم پر کسی بھی تبصرے (کمنٹس) تک رسائی حاصل کرنے سے روک سکیں۔

یہاں تک کہ اس سیٹنگ کے فعال ہونے کے بعد کم عمر صارفین خود اپنی پوسٹس پر آنے والے کمنٹس کو بھی نہیں دیکھ سکیں گے، جس سے وہ کسی بھی قسم کی آن لائن ٹرولنگ یا منفی تبصروں سے محفوظ رہیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اشتراک الائس کمپنی انسٹاگرام بچوں بک پابندی سرچ سوشل میڈیا سیٹنگ عائد فیس فیس بک لمیٹڈ کانٹینٹ میٹا والدین

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی