برازیل کی سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ، سوشل میڈیا کمپنیوں کو صارفین کے مواد پر جوابدہ ٹھہرایا جا سکتا ہے
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
برازیل کی سپریم کورٹ نے حال ہی میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ بعض اقسام کے مواد کی اشاعت پر سوشل میڈیا کمپنیاں بھی جواب دہ ہو سکتی ہیں، چاہے وہ مواد صارفین کی جانب سے ہی کیوں نہ شائع کیا گیا ہو۔
اس فیصلے کے نتیجے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ممکنہ طور پر ایسے مواد کو نہ ہٹانے پر جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو مقامی قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہو۔
عدالت کے 11 میں سے 6 ججوں نے اکثریتی رائے سے اس اقدام کی حمایت کی، تاہم اس پر مکمل اتفاق نہیں ہو سکا کہ کون سا مواد ’غیر قانونی‘ تصور کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا کا بچوں کو سوشل میڈیا سے دور رکھنے کے لیے قانون سازی کا اعلان
دوسری جانب 4 ججوں کے ووٹ اب بھی باقی ہیں، جس کے بعد ہی فیصلہ حتمی شکل اختیار کرے گا، اگرچہ پہلے دیے گئے ووٹ بدلے جا سکتے ہیں، لیکن ایسا ہونا عدالتی روایت کے خلاف ہے اور شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔
یہ فیصلہ برازیل میں اس وقت زیرِ غور آیا جب 8 جنوری 2023 کو سابق صدر جائیر بولسونارو کے حامیوں نے دارالحکومت برازیلیا میں سرکاری عمارات پر دھاوا بولا، جس کے بعد ملک میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے کردار پر شدید سوالات اٹھنے لگے۔
فی الحال، برازیل کے قانون کے مطابق سوشل میڈیا کمپنیاں صرف اسی صورت میں کسی تیسری پارٹی کے مواد کی ذمہ دار ہوتی ہیں جب وہ کسی عدالتی حکم کے باوجود اسے ہٹانے سے انکار کر دیں۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم نے سوشل میڈیا سے متعلق قانون سازی کے لیے کمیٹی تشکیل دیدی
سپریم کورٹ کے جج آندرے مینڈونسا وہ واحد جج ہیں جنہوں نے قانون میں کسی تبدیلی کی مخالفت کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر آزادی اظہار رائے وہ بنیادی ذریعہ ہے جس کے ذریعے طاقتور سرکاری اداروں، حکومتوں، سیاسی اشرافیہ اور خود ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا احتساب ممکن ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے ہی تمام جج ووٹنگ مکمل کریں گے، یہ فیصلہ قانون کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جو برازیل میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے لیے ایک اہم قانونی موڑ ثابت ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
برازیل برازیلیا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سپریم کورٹ سوشل میڈیا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: برازیل برازیلیا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سپریم کورٹ سوشل میڈیا سوشل میڈیا سپریم کورٹ پلیٹ فارمز کے لیے
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز