عاصم اظہر اور میرب علی کا منگنی ختم کرنے کا باقاعدہ اعلان
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
معروف گلوکار عاصم اظہر نے باقاعدہ طور پر اعلان کیا ہے کہ اُن کی اور اداکارہ میرُب علی کی منگنی ختم ہو چکی ہے۔
پاکستان شوبز کی اس مشہور جوڑی نے باہمی رضامندی سے ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اعلان عاصم اظہر نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کیا جس میں انہوں نے کہا کہ اگرچہ اُن کے درمیان کچھ خوبصورت لمحات اور ایک مشترکہ مستقبل کی امیدیں وابستہ تھیں، لیکن زندگی نے ایک مختلف رُخ اختیار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ دونوں نے سوچ سمجھ کر اور باہمی احترام کے ساتھ کیا ہے جس میں دونوں خاندانوں کو بھی شامل کیا ہے۔ انہوں نے مداحوں سے درخواست کی ہے کہ وہ اس ذاتی معاملے میں اُن کی پرائیویسی کا احترام کریں اور کسی قسم کی قیاس آرائی سے گریز کریں۔
عاصم اظہر نے اپنے مداحوں اور چاہنے والوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ہمیشہ اُنہیں محبت دی اور ان کو بطور جوڑی سپورٹ کیا۔
گلوکار کی جانب سے یہ اعلان سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ہلچل مچ گئی ہے اور دونوں فنکاروں کے مداح مایوس نظر آرہے ہیں جبکہ کئی سوشل میڈیا صارفین میرب علی اور عاصم اظہر سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے اس فیصلے کی وجہ بھی دریافت کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ عاصم اظہر اس سے قبل معروف اداکارہ ہانیہ عامر کے ساتھ قریبی تعلقات میں تھے اور ان کی بریک اپ کی خبر نے بھی سوشل میڈیا پر خوب توجہ حاصل کی تھی۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا کیا ہے
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔