چینی صدر کا بھارت کے مسافر طیارے کے حادثے پر متعلقہ ممالک کے رہنماؤں سے اظہار تعزیت
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
بیجنگ :چینی صدر شی جن پھنگ نے بھارت کے صدر دروپدی مُرمو اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو بھارت کے مسافربردار طیارہ حادثے پر تعزیتی پیغام بھیجا۔ جمعہ کے روز چینی میڈ یا نے بتایا کہ چینی وزیر اعظم لی چھیانگ نے بھی نریندر مودی کو تعزیتی پیغام بھیجا۔ شی جن پھنگ نے اپنے پیغام میں کہا کہ انہیں مسافر بردار طیارے کو پیش آنے والے حادثے اور اس سے ہونے والے بھاری جانی نقصان پر افسوس ہوا ۔ انہوں نے چینی حکومت اور چینی عوام کی جانب سے حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین سے گہری تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور زخمی کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمنائیں ظاہر کیں۔ چینی صدر شی جن پھنگ اور وزیر اعظم لی چھِیانگ نے بالترتیب برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوئم اور وزیر اعظم کئر اسٹارمر کو بھی انڈین ایئر لائن کے حادثے میں برطانوی شہریوں کی ہلاکتوں پر تعزیتی پیغامات بھیجے ۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔