خیبر پختونخوا: مالی سال 26-2025 کا سالانہ ترقیاتی پروگرام تیار
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
— فائل فوٹو
خیبر پختونخوا کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا، جس کے پیشِ نظر خیبر پختونخوا کے مالی سال 26-2025 کا سالانہ ترقیاتی پروگرام تیار کر لیا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق مجموعی ترقیاتی بجٹ 500 ارب 78 کروڑ روپے سے زیادہ ہوگا۔
ترقیاتی کاموں کےلیے صوبائی وسائل سے 323 ارب 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہیش کی گئی ہے۔
بجٹ دستاویزات میں یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ 1449 جاری ترقیاتی منصوبوں کےلیے 235 ارب روپے مختص کیے جائیں۔
سندھ اور خیبر پختونخوا کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا، دونوں صوبوں میں وفاق کی طرز پر تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا امکان ہے۔
دستاویزات کے مطابق 810 نئے ترقیاتی منصوبوں کےلیے 88 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ اے ڈی پی میں مجموعی ترقیاتی منصوبوں کی تعداد 2 ہزار 259 تک پہنچ گئی ہے۔
بجٹ دستاویزات میں یہ تجاویز بھی پیش کی گئیں ہیں کہ ڈسٹرکٹ اے ڈی پی کےلیے 45 ارب 60 کروڑ رکھنے جبکہ ترقیاتی بجٹ میں صحت کےلیے27 ارب 24 کروڑ روپے، ابتدائی و ثانوی تعلیم کےلیے 13 ارب روپے، پینے کے پانی کے منصوبوں کےلیے 10 ارب روپے، 36 میں سے آدھے محکموں کےلیے ایک، ایک فیصد سے بھی کم فنڈز رکھنے کی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ بندوبستی اضلاع کےلیے 95 ارب روپے مختص کرنے اور لوکل اے ڈی پی کے تحت 39 ارب 60 کروڑ روپے رکھنےکی تجویز دی گئی ہے۔
دستاویزات میں بیرونی امداد کے تحت 5 ارب 35 کروڑ روپے مختص کرنے اور اے آئی پی کے تحت قبائل اضلاع کےلیے 50 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا کروڑ روپے روپے مختص ارب روپے کی گئی گئی ہے پیش کی
پڑھیں:
غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
اسلام آباد:سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں ارکان نے کہا ہے کہ غیر ضروری وزارتوں کو ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت کرنا ممکن ہے۔
سینیٹر ضمیر حسین کی زیر صدارت سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی منتقلی اور اس پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران وفاقی حکومت کی تنظیمِ نو، وزارتوں کی تعداد کم کرنے اور آئینی تقاضوں کے مطابق وفاقی حکومت کے دائرۂ کار کو محدود رکھنے سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔
کمیٹی ارکان نے کہا کہ غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 4 سے 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے ۔ وفاقی حکومت کو آئین کے مطابق محدود دائرۂ کار میں کام کرنا چاہیے۔ کمیٹی نے مشترکہ مفادات کونسل کے آئینی کردار اور اختیارات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔
اجلاس کے دوران سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس نہ ہونے سے آئینی تقاضے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی ضروری ہے، آئی ایم ایف پر انحصار کم کرنے کے لیے وفاقی اخراجات اور وزارتوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، جبکہ این ایف سی اور مشترکہ مفادات کونسل سمیت آئینی اداروں کو فعال بنایا جائے۔
کمیٹی میں اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ آئینی ادارے فعال ہوں گے تو وفاق اور صوبوں کے کئی مسائل حل ہو سکیں گے۔
سینیٹر ضمیر حسین نے کہا کہ سندھ سے روزانہ 3 ارب 70 کروڑ روپے کا تیل نکلتا ہے لیکن صوبے کو کچھ نہیں دیا جاتا، جبکہ خیبرپختونخوا سے 42 فیصد تیل نکلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن صوبوں سے تیل اور گیس نکل رہی ہے انہیں 16 سال سے ایک ٹکہ بھی نہیں دیا گیا، کمپنیاں اور کارپوریشنز منافع کما رہی ہیں جبکہ عوام بھوک سے مر رہے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو تیل اور گیس کے پیسے کیوں نہیں دے رہی۔ صوبوں کو ان کا حصہ نہ دینا بری حکمرانی ہے۔ حکومت نہ اٹھارہویں آئینی ترمیم پر عملدرآمد کر رہی ہے اور نہ ہی صوبوں کو سپورٹ کر رہی ہے۔
اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 38(جی) پر عملدرآمد سے متعلق تقرریوں کے طریقہ کار پر کمیٹی کو رپورٹ پیش کی گئی جبکہ وزارتِ پیٹرولیم نے آئین کے آرٹیکل 172(3) پر عملدرآمد کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کنویئر کمیٹی نے زور دیا کہ ہر ادارہ اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرے اور آئین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
کنویئر کمیٹی نے کہا کہ تیل و گیس پیدا کرنے والے صوبوں کو ان کا آئینی حق نہ دینا سنگین خلاف ورزی ہے ۔ خیبرپختونخوا و سندھ کو تیل و گیس سے حاصل ہونے والے فوائد سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
بعد ازاں کمیٹی نے تیل و گیس پیدا کرنے والے علاقوں کی متعلقہ اداروں میں نمائندگی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تیل و گیس سے حاصل آمدن کی مکمل تفصیلات کمیٹی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کے بغیر وفاق مضبوط نہیں ہو سکتا، آئین پر عمل نہ ہونے سے سیاسی اور انتظامی مسائل جنم لیتے ہیں۔ سرکاری اداروں میں غیر ضروری اخراجات کم کر کے قومی وسائل بچائے جا سکتے ہیں، اس لیے ڈپلیکیٹ محکموں اور غیر ضروری اخراجات کا بھی جامع جائزہ لیا جانا چاہیے۔